جرمن چانسلر اینگلا مرکل کا دورہ انڈیا: ’کشمیر میں حالات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے`

جمعے کے روز ہزاروں فوجی اہلکاروں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی گلیوں میں گشت کیا اور علاقے میں بدامنی کو روکنے کے لیے مزید پابندیاں عائد کر دیں۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل جو کہ آج کل انڈیا کے دورے پر ہیں، نے کہا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کی صورتحال اچھی اور پائیدار نہیں ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں حالات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اگست میں انڈین حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سینکڑوں کشمیری رہنماؤں، تاجروں اور کارکنوں کو نظربند رکھا گیا ہے اور موبائل انٹرنیٹ تک رسائی بھی معطل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اینگلا مرکل نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک آئندہ پانچ برسوں میں جرمنی اور انڈیا کی نئے شراکت داری منصوبے کے تحت شہری ٹرانسپورٹ کے آلودگی سے پاک منصوبوں پر ایک ارب یورو خرچ کرے گا۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے کابینہ کے متعدد ارکان اور ایک کاروباری وفد کے ہمراہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔

ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی پر بات چیت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ جرمنی یورپ میں انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ انڈیا میں تقریباً 1700 سے زیادہ جرمن کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

جرمنی کی جانب سے دیے جانے والے حالیہ فنڈز کو ماحول دوست منصوبوں، جیسے کہ شہروں میں ٹرانسپورٹ کے لیے برقی بسوں کو متعارف کرانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔