انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں یورپی وفد: مودی سرکار کا مقصد ہے کیا؟

    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی

یورپی یونین کے اراکینِ پارلیمان کا ایک وفد دو روزہ غیر سرکاری دورے پر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر پہنچ گیا ہے۔ سیاسی مبصرین نے اس دورے پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

چند مبصرین نے اس دورے کی حمایت کی لیکن دوسرے کے مطابق ان اراکینِ پارلیمان کو کشمیر جانے کی دعوت دے کر انڈین حکومت نے خود اپنا نقصان کیا ہے۔

پانچ اگست کو جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد غیر ملکی سیاسی رہنماؤں کا یہ کشیمیر کا پہلا دورہ ہے۔

انڈین حکومت نے پانچ اگست سے اب تک نہ صرف انڈین اراکین پارلیمنٹ کو کشمیر جانے سے روکا بلکہ غیر ملکی میڈیا اور سیاسی رہنماؤں کو بھی کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

مبصرین کے مطابق اب ہر وہ غیر ملکی رکنِ پارلیمان جو کشمیر کے زمینی حقائق جاننا چاہتا ہے کشمیر جانے کا مطالبہ کر سکتا ہے یا اسے اس اقدام کے بعد یہ اشارے مل سکتے ہیں کہ اب کشمیر جانے میں حکومتی رکاوٹ نہیں ہو گی۔

واشنگٹن میں انڈین نژاد مبصر اجیت ساہی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت پر کشمیر جانے کا مطالبہ کرنے والے امریکی رکن پارلیمان اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا دباؤ بڑھے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں روکنا مودی حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گا اور یہ ان کے گلے کا پھندا بن جائے گا۔

اس ماہ کے اوائل میں انڈیا نے امریکی کانگریس کے رکن کرِس وان ہیلن کی جانب سے کشمیر کے دورے کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔

22 اکتوبر کو امریکی کانگریس کی غیر ملکی امور کی کمیٹی نے واشنگٹن میں ایک میٹنگ کے دوران انڈین سفیر سے کشمیر کے حالات پر وضاحت طلب کی تھی۔

اجیت ساہی اس میٹنگ کے بارے میں کہتے ہیں کہ 'اس میٹنگ میں ایک کے بعد ایک امریکی کانگریس کے بیس اراکین آئے اور انھوں نے انڈین حکومت سے اتنے تیکھے سوالات کیے کہ وہاں موجود انڈین اہلکاروں کی سیٹی گم ہو گئی۔‘

اس دورے کا مقصد کیا ہے؟

سوال یہ ہے کہ یورپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ کے اس دورے سے انڈین حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ کیا حکومت اس دورے سے یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے؟

انڈیا اور یورپ میں اس وفد کی تشکیل پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر اراکین کی سیاسی جماعتیں اپنے ہی ممالک میں بہت چھوٹی سطح کی پارٹیاں ہیں اور وہ دائیں بازو کی سیاست میں یقین رکھتی ہیں۔

اپنے ہی ملک میں کوئی خاص پہچان نہیں ہے

اس ٹیم میں فرانس کی دائیں بازو کی ایک پارٹی کے چھ، پولینڈ کی دائیں بازو کی جماعت کے پانچ جبکہ برطانیہ کی بریگزٹ پارٹی کے چار اور اٹلی اور جرمنی کی دائیں بازو کی جماعتوں کے دو دو اراکین شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ہی برازیل اور سپین کی بھی دائیں بازو کی جماعتوں کے لوگ شامل ہیں یہ جماعتیں اپنے ملک میں تارکینِ وطن مخالف اور اسلام مخالف بیانات دینے کے لیے مشہور ہیں۔

اس وفد میں شمولیت کا دعوت نامہ برطانیہ کی لیبر ڈیمو کریٹک پارٹی کے رکن کِرس ڈیوس کو بھی ملا تھا لیکن ان کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے یہ شرط رکھی کہ کہ انھیں کسی فوجی یا پولیس کی غیر موجودگی میں عام کشمیریوں سے ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے تو ان کا دعوت نامہ واپس لے لیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرس ڈیوس کا کہنا تھا کہ 'وہ نریندر مودی حکومت کے اس تعلقات عامہ سٹنٹ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔‘

اجیت ساہی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ان چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے رہنماؤں کوکشمیر بھیج کر انھیں اہمیت دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مودی حکومت کے حق میں بھی بہتر نہیں ہے۔

پیر کے روز وزیراعظم نریندر مودی نے اس وفد کے اراکین سے کہا تھا کہ کشمیر میں وہ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں لیکن سرکاری ذرائع کے مطابق ان کے دورے کا پورا پروگرام پہلے سے طے شدہ ہے۔

گورنر اور سرکاری اہلکاروں سے ملاقات کے علاوہ وہ ان پنچایت اور بلاک سطح کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جنھیں حالیہ انتخابات میں فتح حاصل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ انھیں سرینگر کی ڈل جھیل کی بھی سیر کروائی جائے گی۔