صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش: ’کشمیر پر جو کر سکتا ہوں، کرنے کے لیے تیار ہوں‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور انڈیا کے رہنماؤں سے بات چیت کی اور انھیں بتایا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر ثالثی کروانے کے لیے تیار ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر جو کچھ کر سکتے ہیں، کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ہم منصب نریندر مودی ’میرے دوست ہیں اور دونوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے لیکن انھیں امید ہے کہ اس کا کوئی بہتر حل نکلے گا۔

ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اور انڈیا چونکہ جوہری طاقتیں ہیں، اس لیے دونوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ ٹرمپ اس سے پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بطور ثالث کردار ادا کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں۔

امریکی صدر نے گذشتہ ماہ 21 اگست کو دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے ٹیلیفونک گفتگو کی تھی۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایک طویل عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہیں اور یہ ایک 'خطرناک صورت حال ہے۔'

امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم اس وقت ایک گھمبیر مسئلے سے دوچار ہیں۔

'دونوں وزرائے اعظم میرے دوست ہیں، اور دونوں بہت زبردست انسان ہیں، دونوں اپنے اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں لیکن وہ ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں، کشمیر ایک گھمبیر معاملہ ہے جو کہ بہت لمبے عرصے سے جاری ہے۔

ٹرمپ نے اس سے قبل 20 اگست کو بھی انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے ساتھ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسئلے پر خطے میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کی تھی۔

اپنی ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ کا کہا تھا کہ '(میں نے) اپنے دو اچھے دوستوں، انڈیا کے وزیر اعظم مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم خان سے تجارت، سٹریٹیجک شراکت داریوں اور دونوں ممالک کے لیے سب سے اہم یہ کہ کشمیر کے مسئلے پر تناؤ کم کرنے کے لیے کام کرنے پر بات کی ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کا نیویارک ٹائمز کو انٹرویو

دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم نے عمران خان نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو کشمیر کے مسئلے میں مداخلت کرنی چاہیے۔

بدھ کے روز پاکستانی وزیراعظم نے امریکی اخبارات نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل کے ادارتی بورڈز سے ملاقات میں گلہ کیا کہ عالمی برادری کشمیریوں کی حالات پر بےحسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں خونریزی کا خطرہ ہے اور اب عالمی برادری چپ نہیں رہ سکتی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

انھوں نے کہا: ’اگر اس معاملے میں اقوام متحدہ نہیں بولے گا تو کون بولے گا؟‘

انھوں نے کہا کہ انڈیا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے جس سے اس کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

ان کے مطابق کچھ ممالک انڈیا کے ساتھ اپنے مفادات کی وجہ سے شاید اس مسئلے پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کے لیے مداخلت کرنی ہی پڑے گی کیونکہ دونوں ممالک جوہری طاقتیں بھی ہیں۔