کشمیر میں لاک ڈاؤن سے شادیوں میں مشکلات: ’مودی کی وجہ سے میری زندگی کا سب سے بڑا دن خراب ہوا ہے‘

    • مصنف, عامر پیرزادہ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، انڈیا

انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں شادیوں کا موسم سر پر ہے مگر وادی میں پچھلے تین ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہیں اور اس صورتحال کے باعث سینکڑوں شادیاں بھی ملتوی کر دی گئی ہیں۔

ایسی ہی کشمکش کی شکار حنا رخسار اور ان کے اہلِ خانہ بھی ہیں۔

27 سالہ حنا ہر دلہن کی طرح اپنی زندگی کے انتہائی اہم دن کے لیے پرجوش تھیں اور ایک عرصے سے شادی کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم پانچ اگست کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے وادی میں کیے جانے والے لاک ڈاؤن، اور ذرائع مواصلات اور کاروبارِ زندگی کی معطلی کے باعث حنا کی شادی کے انعقاد میں کافی رکاوٹیں آ گئی ہیں۔

حنا افسردہ ہیں کہ ان کی شادی کا مزا کرکرا ہو گیا ہے۔ ’یہ لمحے میری زندگی میں دوبارہ کبھی نہیں آئیں گے۔یہ کسی بھی دلہن کی زندگی کا سب سے بڑا دن ہوتا ہے اور یہ بدمزہ ہو گیا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا دل کر رہا ہے کہ میں روؤں اور مودی سے کہوں کہ تمہاری وجہ سے میری زندگی کا اہم دن خراب ہوا۔‘

حنا کے لیے ان کی شادی کا دن پرمسرت اور یادوں سے بھرپور ہونا چاہیے تھا لیکن اس وقت وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھ میں اب وہ جوش موجود نہیں ہے جس کی آپ ایک دلہن سے توقع کرتے ہیں۔ ہاں میری شادی ہو رہی ہے لیکن بس یہ بات یہیں تک محدود ہے۔‘

حنا کے گھر والے اور ان کے دوست ان کی شادی سے پہلے ان کی ہمت بندھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس بات کا انھیں بھی علم ہے کہ تقریب ویسے نہیں ہو سکے گی جیسے تصور کر رکھا تھا۔

حنا نے اپنے کزنز کے ساتھ مل کر اپنی شادی کے حوالے سے بہت سارے منصوبے بنا رکھے تھے۔

'میں نے روشنی اور ڈیکوریشن کے حوالے سے گزیبو نام کی ایک تھیم سوچ رکھی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ تازہ پھولوں کا استعمال کیا جائے۔ میرے کزنز اور میں نے شادی کے لیے ایک مخصوص لباس بھی تجویز کر رکھا تھا۔‘

’مگر ہر چیز اچانک سے تبدیل ہو گئی۔ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میں اپنا شادی کا جوڑا بھی مارکیٹ سے وقت پر اٹھا سکوں گی یا نہیں۔‘

دوسری جانب حنا کے والد رخسار احمد تقریب کے انتظامات کے حوالے سے پریشان ہیں۔

رخسار احمد نے اپنی بیٹی کی شادی میں 800 افراد کو مدعو کر رکھا تھا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اب صرف 60 لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔

البتہ اس وقت ان کی سب سے بڑی الجھن یہ ہے کہ وہ ان 60 مہمانوں کو کیا کھلائیں گے۔

کشمیر میں شادیوں میں کھلائے جانے والے خاص پکوانوں میں سے ایک وازوان ہے جو مختلف پکوانوں کا مرکب ہوتا ہے۔

وازوان کی تیاری کے لیے مخصوص باورچی بلائے جاتے ہیں، اور اسے بنانے کا عمل ہی ایک بہت پیچیدہ اور طویل کام سمجھا جاتا ہے۔

رخسار کے والد کہتے ہیں کہ 'کشمیری وازوان کو پکانے کے لیے کم از کم 100 سے 200 برتن اور 20 باورچی درکار ہوتے ہیں۔

'اس وقت ہمارے پاس صرف دو لوگ دستیاب ہیں جو یہ مخصوص پکوان بنا سکتے ہیں آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس وقت مارکیٹ میں کیا مل سکتا ہے۔'

وادی میں پھیلے خوف کے باعث حنا کی شادی کو سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کے والد کہتے ہیں کہ ’ہم نے اس تقریب میں ناچنا اور گانا تھا مگر اب یہ تقریب صرف ایک رسم کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے کہ بس ایک باپ اپنی بیٹی کو وداع کر رہا ہے، اور کچھ بھی نہیں ہے‘

حنا بھی ان حالات میں کسی قسم کے جشن منانے کے مضمرات سے واقف ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ خوف زدہ ہیں کہ باہر کے لوگ بچوں کے قہقہے یا بلند آواز میں باتیں سنیں تو کہیں کچھ ہو ہی نہ جائے۔

'جب کوئی بھی فرد کام کی غرض سے باہر نکلتا ہے ہے تو ہم اس کی بحفاظت واپسی تک پریشان رہتے ہیں کہ پتہ نہیں وہ وہاں پہنچا بھی ہے کہ نہیں۔‘