آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیریوں کا پرتشدد فوجی کریک ڈاؤن کا الزام: ’ہم پر تشدد نہ کریں، بس گولی مار دیں‘ (نوٹ: اِس رپورٹ کے کچھ حصے آپ کے لیے باعث تکلیف ہو سکتے ہیں)
نوٹ: اِس رپورٹ کے کچھ حصے آپ کے لیے باعث تکلیف ہو سکتے ہیں
بی بی سی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجیوں کے ہاتھوں مقامی افراد پر شدید تشدد اور ایزا رسانی کے الزامات سامنے لائي ہے۔ انڈین فوج نے ان الزامات کو 'بے بنیاد' قرار دیا ہے۔
انڈیا اور پاکستان، دونوں کشمیر پر اپنا حق جتاتے ہیں، اور کشمیر کے مختلف حصے جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دونوں پڑوسیوں کے کنٹرول میں ہیں۔
انڈین حکومت کی جانب سے خطے کی نیم مختار حیثیت ختم کیے جانے کو آج چھبيس روز ہو گئے ہیں اور وادی میں مزاحمت کو دبانے کے لیے شدید پابندیاں عائد ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کو اُس کی خصوصی خود مختار حیثیت سے محروم کر کے، ہندو قوم پرست حکومت ملک کی اس واحد مسلمان اکثریتی ریاست پر اپنا کنٹرول بڑھانا چاہتی ہے۔
ذرائع ابلاغ پر شدید پابندیوں کے باوجود ہمارے ساتھی سمیر ہاشمی کشمیر کے کچھ علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور وہاں سے یہ رپورٹ ارسال کی ہے، جو پیش کر رہے ہیں فراز ہاشمی۔ اِس رپورٹ کے کچھ حصے آپ کے لیے باعث تکلیف ہو سکتے ہیں۔