بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی زندگی بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے مشکل تر

Boy with umbrella in front of flooded village

،تصویر کا ذریعہUNICEF

،تصویر کا کیپشننو سالہ محمد ابراہیم کاکس بازار کے بڑے کیمپ می رہائش پذیر ہے

بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں میں مون سون کی شدید بارشوں کا پانی گھر آنے سے ہزاروں لوگ دربدر ہو گئے ہیں جب کہ کم از کم ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق بارشیں جاری رہنے کی توقع ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ 3000 سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں جبکہ بین الاقوامی تنظیم برائے نقل مکانی (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہزاروں پناہ گزینوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کیا گیا ہے۔

ان کیمپوں میں 7 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین رہتے ہیں۔ روہنگیا مسلم اقلیتی گروہ ہے جس کے لاکھوں افراد استحصال سے بچنے کے لیے میانمار چھوڑ چکے ہیں۔

Woman next to flooded shelter

،تصویر کا ذریعہIOM

،تصویر کا کیپشنبارشوں کے نتیجے میں کیمپ کی بھربھری مٹی اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہے

آئی او ایم کے ایک ترجمان جارج میکلوڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بحران ’میانمار سے جان بچا کر بھاگنے والے پناہ گزینوں کو پہلے سے لاحق مشکلات میں مزید اضافہ’ کر رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے ایسے لوگوں کے سینکڑوں کیس دیکھے ہیں جن کے گھروں کو لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی لوگ خطرناک ڈھلوانوں کی زد میں ہیں۔ ان لوگوں کو ہنگامی پنا گاہوں میں یا ان کے رشتے داروں کے گھروں میں منتقل کرنا پڑا۔’

Bamboo bridge across flooded river

،تصویر کا ذریعہUnicef

،تصویر کا کیپشنبارش کی وجہ سے بہت سے پل بہہ گئے ہیں

امدادی حکام نے اتوار کے روز بتایا کہ لینڈ سلائیڈز سے کم از کم ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔

کیمپوں میں سب سے زیادہ خطرے کی زد میں بچے ہیں اور یہ سب سے زیادہ متاثر بھی ہوئے ہیں۔ کئی شیلٹر، سکول اور طبی مراکز متاثر اور نقصان کے شکار ہوئے ہیں۔

کیمپس ریتلی زمین پر قائم ہیں جو کہ شدید بارش میں بہہ جاتی ہے اور خطرناک لینڈ سلائیڈز اور سیلاب کا سبب بنتی ہے۔

Refugee camp in Cox's Bazar

،تصویر کا ذریعہUNICEF

،تصویر کا کیپشنکیمپ میں سات لاکھ سے زیادہ پناہ گزین مقیم ہیں
Bamboo bridge across flooded river

،تصویر کا ذریعہUnicef

،تصویر کا کیپشنبارش کی وجہ سے بہت سے پل بہہ گئے ہیں

بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ وہ کیمپوں میں ڈائریا پھیلنے سے روکنے پر کام کر رہا ہے۔

سنہ 2017 میں مون سون کی بارشوں نے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں 170 افراد کی جان لی تھی۔

گذشتہ سال اقوامِ متحدہ کے اداروں نے لینڈ سلائیڈز اور سیلابوں کے بلند خطرے کے زد میں موجود علاقوں سے 30 ہزار روہنگیا افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا تھا۔

Men laying down sand bags

،تصویر کا ذریعہUNICEF

Huts in Cox's Bazar refugee village

،تصویر کا ذریعہUNICEF

سنہ 2017 سے اب تک سات لاکھ سے زائد روہنگیا افراد میانمار کے شمالی صوبے راکھائن میں اپنے گھروں کی تباہی اور استحصال کی وجہ سے میانمار سے جان بچا کر بنگلہ دیش آئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے راکھائن میں روہنگیا برادری کے خلاف فوجی آپریشن کو ’نسلی بنیادوں پر قتلِ عام کی مثال’ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب میانمار کی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ روہنگیا سویلین افراد کو نشانہ بنانے کے بجائے صرف روہنگیا عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

Men rebuilding a hut

،تصویر کا ذریعہunicef

.