خوبصورتی اور توقعات کے دباؤ کا شکار بنگلہ دیش کی خواتین

،تصویر کا ذریعہHABIBA NOWROSE
'خاتون ہونے کی وجہ سے ہمیں مجبوراً اپنی خوبصورتی کو دکھانا پڑتا ہے۔' یہ کہنا ہے 29 برس کی فوٹو گرافر حبیبہ نوروز کا جو بنگلہ دیش میں عورتوں پر پرکشش نظر آنے کے دباؤ کے مسئلے پر دستاویزی تصاویریں بنا رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 'خوبصورتی کو حاصل کرنے کی اس راہ میں ہم سے ہماری انفرادیت، ہماری اپنی کہانی اور ہمارے صدمات کو الگ کر دیا جاتا ہے۔'
'ہم اپنے آپ سے انجان ہو جاتے ہیں اور ہماری پہچان پوشیدہ رہتی ہے۔'
یہ بھی پڑھیے۔

،تصویر کا ذریعہHABIBA NOWROSE
حبیبہ کی تصاویر میں موجود خواتین روشن اور رنگوں سے بھری نظر آتی ہیں لیکن ان کے چہرے مکمل طور پر چھپے ہوتے ہیں۔
یہ تصاویر اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خواتین باہر سے خوبصورت نظر آنے کے لیے تو کافی کوششیں کرتی ہیں لیکن اس سب میں وہ اپنی اندرونی پہچان کھو دیتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حبیبہ ان تصویروں سے اس مسئلے پر لوگوں کی توجہ دلانا چاہتی ہیں کہ بنگلہ دیش کی خواتین کو خوبصورت بننے کے لیے اپنا آپ کو کتنا قربان کرنا پڑھتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حبیبہ نے کہا کہ اس سیریز کا خیال انھیں ایک ' تلخ ذاتی تجربے' کے بعد آیا۔

،تصویر کا ذریعہHABIBA NOWROSE
'جب میں یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوئی تو بہت سے لوگوں کی مجھ سے توقعات وابستہ تھیں۔ مجھے شادی کرنی تھی، بچہ پیدا کرنا تھا، ایک اچھی تنخواہ والی نوکری حاصل کرنی تھی۔ میں نے ایسا اپنے ارد گرد بہت سی لڑکیوں کے ساتھ ہوتے دیکھا ہے۔ وہ اپنے لیے کیا چاہتی ہیں ان کو زبردستی بھلوا دیا جاتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہHABIBA NOWROSE
حبیبہ محسوس کرتی ہیں کہ جب انھوں نے فوٹوگرافی شروع کی تو پہلے سال وہ جتنا مرضی محنت کرتیں وہ ناکافی تھا۔
'اگر آپ عورت ہیں اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تو آپ کو مردوں سے دگنی زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہSHAMS JERIN
بالآخر حبیبہ اپنے آپ کو پھنسا ہوا محسوس کرنے لگیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنی شخصیت ختم ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
'پھر میں نے اپنے آپ کو خوش کرنے اور اپنے آپ سے مخلص ہونے کی کوشش کی۔'

،تصویر کا ذریعہHABIBA NOWROSE
اپنے پیشے کے آغاز کے چھ سال بعد حبیبہ نے اپنی سیریز 'کنسیلڈ' یعنی 'پوشیدہ' کا آغاز کیا۔
انھوں نے کہا کہ 'میں نے ان تجربات کو مسترد اور لوگوں کی توقعات سے انکار کے ایک طریقے کے طور پر یہ سیریز شروع کی۔'
سنہ 2016 میں ڈھاکہ میں جب حبیبہ نے ان تصویروں کی نمائش شروع کی تو وہ کہتی ہیں کہ ان کے کام کو کافی تجسس کی نظر سے دیکھا گیا۔
فنون کی دنیا سے منسلک خواتین نے اس کے پیغام کو بخوبی سمجھا لیکن مردوں کو اس کے متعلق مزید سمجھانا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہHABIBA NOWROSE
حبیبہ کہتی ہیں کہ بنگلہ دیش میں خواتین فوٹوگرافرز کی تعداد کم ہے جو خود ایک مسئلہ ہے لیکن اب صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوگئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'شاید ابھی تک پیشے کے ہر پہلو میں اسے محسوس نہیں کیا جا رہا ہے لیکن ایسے لوگ ہیں جو اس شعبے میں خواتین کے کام کی قدر کرتے ہیں۔'
'میں امید کرتی ہوں کہ بنگلہ دیش میں خواتین ہمیشہ کی طرح مضبوط رہیں گی اور اپنے دشمنوں اور دوستوں کو پہچان سکیں گی۔'










