’سارمات‘: 35 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے روسی میزائل کی خصوصیات کیا ہیں؟

روس

،تصویر کا ذریعہOfficial channel of the Russian Ministry of Defense

،تصویر کا کیپشناعلان کردہ خصوصیات کے مطابق 'سارمات' دنیا کے سب سے بڑے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں میں سے ایک ہے
    • مصنف, پاول آکسیونوف
    • عہدہ, بی بی سی روسی سروس کے لیے عسکری تجزیہ کار
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

روس کا کہنا ہے کہ اس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’سارمات‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

سٹریٹجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکایف نے یہ بات اپنی رپورٹ میں ولادیمیر پوتن کو بتائی۔ اسی دوران روسی وزارتِ دفاع نے اس میزائل کے لانچ کے لمحے کی ویڈیو بھی جاری کی۔

مغربی آزاد ذرائع نے تاحال اس روسی میزائل کی پرواز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور اس کے پرواز کے راستے کے بارے میں بھی معلومات دستیاب نہیں۔

یہ نئے بھاری بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا دوسرا کامیاب تجربہ ہے۔ اس کی پہلی لانچ 2022 میں کی گئی تھی۔

سنہ 2024 میں، پلستسک خلائی اڈے سے اس میزائل کی ممکنہ لانچ کی کوشش کے دوران ایک حادثہ پیش آیا تھا۔

اعلان کردہ خصوصیات کے مطابق ’سارمات‘ دنیا کے سب سے بڑے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں میں سے ایک ہے۔

امریکی مرکز برائے سٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات سے وابستہ ’میزائل تھریٹ‘ منصوبے کے اندازے کے مطابق اس میزائل کا لانچ وزن 10 ٹن ہے، جو اس نوعیت کے میزائلوں میں سب سے زیادہ شمار ہوتا ہے۔

صدر پوتین نے کاراکایف کی رپورٹ کے دوران کہا کہ اس میزائل کی حد 35 ہزار کلومیٹر ہے۔

ایسے میزائل کی ضرورت کیوں ؟

35 ہزار کلومیٹر کی حد تک مار کرنے کی صلاحیت اسے اس قابل بناتی ہے کہ میزائل ضروری نہیں کہ مختصر ترین راستے سے ہی ہدف کی جانب جائے بلکہ کسی بھی مطلوبہ راستے سے اس کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

اس لیے اس میزائل کو روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ میزائل دفاعی نظام میزائلوں کی پرواز کے مخصوص پیمانوں کی بنیاد پر تیار کیے جاتے ہیں۔

زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ میزائل پر بڑی تعداد میں وارہیڈ نصب کیے جائیں یا ان میں سے کچھ کو فرضی اہداف سے بدل دیا جائے۔ یہ فرضی اہداف بھی میزائل کو روکنے کے عمل کو نہایت مشکل بنا دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ایسی خصوصیات کا حامل میزائل گلائیڈر کو بھی لے جا کر فائر کر سکتا ہے۔

یہ گلائیڈر بلندی تک لے جائے جاتے ہیں اور پھر زمین کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ رفتار بڑھاتے ہوئے آواز کی رفتار حاصل کرنے کے بعد یہ ہدف کی جانب بڑھتے ہیں اور انھیں روکنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔

روس میں اس پروگرام کو ’آوانگارڈ‘ کہا جاتا ہے۔ نو مئی کی پریڈ کے دوران، اس سے متعلق ویڈیوز نشریات میں بھی دکھائی گئیں۔

مہنگا منصوبہ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایک نئے میزائل کی تیاری ایک مہنگا منصوبہ ہے۔ اس کی لاگت جو خفیہ رکھی جاتی ہے آزمائشی لانچز کے ساتھ نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔

تاہم کہا جاتا ہے کہ ’سارمات‘ کے مجموعی طور پر صرف تین تجربات کیے گئے ہیں، جن میں سے اب تک صرف ایک ہی کامیاب رہا۔

پروجیکٹ ’روسی جوہری ہتھیار‘ کے سربراہ پاول پودویگ نے بی بی سی کی روسی سروس کو بتایا کہ ’عام طور پر سوویت دور میں، آزمائشوں کا سلسلہ تقریباً 10 لانچز پر مشتمل ہوتا تھا اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ۔‘

موجودہ حالات میں بہت سے تجربات ورچوئل انداز میں بھی کیے جا سکتے ہیں۔ طاقتور کمپیوٹرز پرواز کے پیرامیٹرز کا حساب لگا سکتے ہیں۔ ایسے تجربات ممکنہ طور پر مجموعی لانچز کی تعداد کم کرنے میں مدد دیتے ہیں مگر انھیں مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔

پاول پودویگ نے وضاحت کی ’دوسری جانب، ان میزائلوں کا تصور ہی یہ ہے کہ بظاہر انھیں استعمال نہیں کیا جانا۔ یعنی ’یہ میزائل سائیلوز میں صرف ڈرانے کے لیے رکھے جاتے ہیں، استعمال کرنے کے لیے نہیں۔‘

سرگئی کاراکایف نے صدر پوتن کو رپورٹ دی کہ ’سارمات‘ نظام سے لیس پہلا میزائل رجمنٹ سنہ 2026 کے اختتام تک مکمل جنگی تیاری کی حالت میں آ جائے گا۔

یہ واضح نہیں کہ روس بالآخر کتنے ’سارمات‘ میزائل تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاول پودویگ کے اندازے کے مطابق ممکن ہے کہ ان کی تعداد درجنوں میں ہو۔

انھوں نے کہا کہ سارمات میزائل جسامت اور بنیادی خصوصیات کے لحاظ سے آر‑36 ایم میزائل جیسا ہے اور اسی کے سائیلو میں فٹ آ جائے گا۔ ’میرا خیال ہے کہ سائیلوز میں کچھ حد تک جدید کاری کی جائے گی، لیکن کسی بڑی یا بنیادی تعمیرِ نو کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سائیلو کا اندرونی حصہ اور کنکریٹ کا ڈھانچہ غالباً اپنی جگہ برقرار رہے گا۔‘

ٹھوس ایندھن یا مائع؟

روس نے 2010 کی دہائی کے اوائل میں ایک نئے بھاری میزائل کی تیاری شروع کی۔

اس کی ایک وجہ یوکرین کی کمپنی یوزماش کے ڈیزائنرز کا آر‑36 ایم وویووڈا میزائلوں کی سروس اور دیکھ بھال سے انکار تھا۔ یہ میزائل، جنہیں نیٹو میں ’شیطان‘ (Satan) کے نام سے جانا جاتا ہے، روس کی سٹریٹجک جوہری فورسز کے زیرِ استعمال تھے۔

یہ میزائل مائع ایندھن سے چلنے والے ہیں۔ ان کا ایندھن دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: اصل ایندھن اور آکسیڈائزر۔ عموماً ایندھن اور خاص طور پر آکسیڈائزر، نہایت زہریلا اور آتش گیر کیمیائی مادہ ہوتا ہے۔

سارمات میزائل کے ایندھن کی ترکیب باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔

مائع ایندھن والے میزائل سائیلوز سے فائر کیے جاتے ہیں اور لانچ سے قبل ان میں ایندھن بھرا جاتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ اور خطرناک عمل ہے۔

ٹھوس ایندھن والے میزائل پہلے ہی ایندھن سے بھرے ہوتے ہیں اور ہمیشہ لانچ کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہ عموماً متحرک لانچرز سے فائر کیے جاتے ہیں۔ ٹوپول اور یارس جیسے میزائل اسی قسم کے ہیں اور انھیں ریڈ سکوائر کی پریڈز میں دکھایا گیا۔

ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کا فائدہ ان کی نقل و حرکت ہے کیونکہ ان کے لانچرز سائیلوز کے برعکس قابلِ نقل ہوتے ہیں۔ انھیں نگرانی کے آلات سے چھپانا بھی نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

پاول پودویگ کے مطابق، سارمات ایک ایسا منصوبہ ہے جو ’زیادہ تر سیاسی نوعیت کا حامل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجموعی طور پر، ایسے میزائلوں کا وجود کسی حد تک قابلِ جواز ہے لیکن یہ کہنا کہ اگر روس نے یہ میزائل نہ بنایا ہوتا تو وہ تباہ ہو جاتا، قطعاً درست نہیں۔‘