آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بابری مسجد تنازع: سپریم کورٹ کی نامزد ثالثی کمیٹی کے سربراہ جسٹس خلیف اللہ کون ہیں؟
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
گذشتہ روز انڈیا کی عدالت عظمی نے بابری مسجد اور رام مندر تنازع کو حل کرنے کے لیے غیر روایتی فیصلہ سناتے ہوئے اسے ثالثی کے ذریعے حل کرنے کا حکم دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اس کے لیے تین رکنی ایک ٹیم کا اعلان بھی کیا جس کی سربراہی جسٹس ایف ایم خلیف اللہ کریں گے۔ ان کے علاوہ اس ٹیم میں ہندوؤں کے روحانی گروشری شری روی شنکر اور سینیئر وکیل شری رام پانچو شامل ہیں۔
یہاں ہمارے قارئین کے لیے یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ دہائیوں سے حل طلب متنازع مسئلے کے حل لیے بنائی گئی ٹیم کے سربراہ جسٹس فاخر محمد ابراہیم خلیف اللہ کون ہیں؟
68 سالہ جسٹس خلیف اللہ اس سے قبل اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب وہ انڈین کرکٹ بورڈ میں اصلاح کرنے والی عدالتی ٹیم کا حصہ تھے اور بورڈ کے کام کاج میں زیادہ شفافیت لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
انھوں نے اس معاملے میں پہلے جسٹس اے کے پٹنایک اور اس کے بعد چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کے ساتھ کام کیا۔
جسٹس فاخر خلیف اللہ کا تعلق انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو سے ہے۔ وہ ریاست کے سیواگنگئی ضلعے کے کرائکوڈی میں سنہ 1951 میں جسٹس فاخر محمد کے گھر میں پیدا ہوئے۔
انھوں نے سنہ 1975 میں وکالت شروع کی اور سنہ 2000 میں معروف مدراس ہائی کورٹ میں جج مقرر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک دہائی بعد سنہ 2011 میں انھیں جموں کشمیر ہائی کورٹ میں پہلے نگراں چیف جسٹس مقرر کیا گیا پھر انھیں باقائدہ چیف جسٹس بنایا گیا۔
ایک سال بعد ہی انھیں انڈیا کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ آف انڈیا میں جج مقرر کیا اور انھیں چیف جسٹس سروش ہومی کپاڈیا نے عہدے کا حلف دلایا۔
انڈیا کے اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے انڈین کرکٹ بورڈ میں اصلاحات کے سلسلے میں ان کی تعریف کرتے ہوئے جسٹس خلیف اللہ کے ریٹائرمنٹ کے وقت کہا: 'بی سی سی آئی کے معاملے کے دوران مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں انڈین ٹیم کے کسی سابق کپتان کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں۔ خلیف اللہ نے اس معاملے بہت ہی باریک نکتے فراہم کیے۔ انھیں بی سی سی آئی کے کام کاج کے طریقے کے بارے میں بہت زیادہ معلومات حاصل تھیں۔ انھوں نے اس معاملے میں میری جو مدد کی اور (کرکٹ کے) کھیل کو بلندی حاصل کرنے میں جو مدد کی اس کے لیے میں ان کا ہمیشہ ممنون رہوں گا۔'
چیف جسٹس ٹھاکر نے ان کی الوداعیہ تقریب میں انھیں 'کشمیریوں کے دلوں میں عدل و انصاف میں یقین قائم کرنے والا' کہا۔ انھوں کشمیریوں کو قانونی چارہ جوئی میں تعاون کرنے کے لیے لیگل ایڈ کلنک قائم کی۔
جسٹس خلیف اللہ انڈیا کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی قتل کیس کے معاملے میں آئنی بینچ کے حصہ رہے۔
اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے انھوں نے قدیم زمانے کے ویدک علم نجوم کو انڈیا کی یونیورسٹیوں میں سائنٹفک سٹڈی کے کورس کے طور پر پڑھانے کا فیصلہ سنایا تھا جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
ایک وکیل کے طور پر جسٹس فاخر خلیف اللہ لیبر قانون کے ماہر اور سرگرم وکیل تصور کیے جاتے تھے۔
بابری مسجد رام مندر تنازع کے حل کے لیے ان کا نام پیش کیے جانے پر انھوں نے کہا: 'میرے خیال سے سپریم کورٹ نے ایک ثالثی کمیٹی قائم کی ہے جس کی سربراہی کی ذمہ داری مجھے دی گئی ہے لیکن ابھی تک مجھے حکم نامے کی کاپی نہیں ملی ہے۔ فی الحال میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ اگر کمیٹی بنائی گئی ہے تو ہم لوگ اس مسئلے کا دوستانہ انداز میں حل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔'
حیدرآباد میں قانون کی یونیورسٹی نلسار کے وائس چانسلر اور قانون کے ماہر پرفیسر فیضان مصطفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے انصاف کے نظام میں عدالتوں کو اکثریتی جذبات کے خلاف کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس پر ہر ایک فرد کے حق کی حفاظت کی ذمہ داری ہوتی ہے اس لیے عوامی جذبات اس کے سامنے بے معنی ہوتے ہیں۔
انھوں بات چیت کے دوران کہا کہ اس معاملے میں کسی مسلمان کو ثالثی کی ذمہ داری دینی ہی نہیں چاہیے اور اس کے ساتھ انھوں نے اس معاملے میں شری شری روی شنکر کی شمولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'شری روی شنکر کا اس معاملے پر موقف واضح ہے جنھوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ 'خیر سگالی' کے اظہار کے طور پر اپنے دعوے سے دست بردار ہو جائيں اور انھوں نے اس کا فیصلہ کرنے کے ضمن میں سپریم کورٹ کی اہلیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
شری شری روی شنکر کی شمولیت پر کئی دوسرے مسلم رہنماؤں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اردو زبان میں شائع ہونے والے روزناموں کے مطابق دہلی کی شاہی مسجد کے امام سید احمد بخاری اور آل انڈیا مجسلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ان تین رکنی ٹیم میں ان کی شمولیت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے سے ہی متنازع جگہ کو ہندوؤں کو دیے جانے کے حق میں ہیں۔
انھوں نے پہلے کہا تھا کہ اگر ایودھیا تنازع حل نہیں ہوا تو پھر انڈیا میں شام جیسے حالات ہو جائيں گے۔ انھوں نے این ڈی ٹی وی کو بتایا: 'اگر عدالت یہ فیصلہ دیتی ہے کہ متنازع جگہ بابری مسجد ہے تو کیا لوگ اس بات کو باآسانی اور بخوشی قبول کر لیں گے؟ یہ 500 سال سے مندر کے لیے لڑنے والی اکثریتی برادری کے لیے تلخ گولی ثابت ہو گی۔ ایسے میں کشت و خون بھی ہو سکتا ہے۔'
پروفیسر فیضان نے مزید بتایا کہ اس معاملے میں اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا جیسے بعض فریق نے واضح طور پر کسی مصالحت کو مسترد کر دیا ہے۔
بہرحال انھوں نے رام پانچو کے ٹیم میں شامل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا اور یہ بھی بتایا کہ یہ تینوں ثالث تمل بولنے والے ہیں۔
ایودھیا کی پانج سو برس پرانی بابری مسجد کو چھ دسمبر 1992 کو ہندوؤں کے ایک ہجوم نے منہدم کر دیا تھا جس کے لیے ابھی تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔
ملک کے بہت سے ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ ان کے بھگوان رام چندر اسی مقام پر پیدا ہوئے تھے جہاں مسجد بنی ہوئی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 1528 عیسوی میں بابری مسجد بھگوان رام کے مندر کو توڑ کر اسی مقام پر بنائی گئی تھی۔
ایودھیا ہندوؤں کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے جہاں مسلمانوں کی بھی درجنوں درگاہیں ، مساجد اور مقبرے واقع ہیں۔ ایودھیا میں مختلف مقامات پر صدیوں پرانے آثاروں اور باقیات سے یہاں ماضی میں مسلم آبادیوں کا پتہ چلتا ہے تاہم ایودھیا میں اب مسلمانوں کی بہت کم آبادی ہے۔