آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بابری مسجد، رام مندر تنازع: فیصلہ عدالت نہیں ثالث کریں گے
انڈیا کے سپریم کورٹ نے ایودھیا کی بابری مسجد اور رام مندر تنازعے کو ثالثی سے حل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے ثالثی کےلیے ایک تین رکنی پینل بھی تشکیل دیا ہے جو آٹھ ہفتے میں مصالحت کا عمل مکمل کرے گا۔
بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق ایودھیا کے کے طویل تنازعے کو ثالثی سے حل کرنے کے لیے عدالت عظمی نے جو تین رکنی کمیٹی قائم کی ہے اس کی سربراہی سابق جج جسٹس ایف ایم خلیف االلہ کریں گے ۔ اس پینل کے باقی دو ارکان میں روحانی گرو شری شری روی شنکر اور سینیئر وکیل شری رام پانچو شامل ہیں۔
ثالثی کی بات چیت اترپردیش کے ضلعے فیض آباد میں ہو گی اور یہ پینل اس تنازع کے تینوں فریقوں سے بات چیت کرے گا۔
بابری مسجد سے متعلق یہ بھی پڑھیے
چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی بنچ نےاس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ثالث پینل کو ہدایت کی ہے کہ وہ مصالحت کی بات چیت میں پیش رفت کی رپورٹ چار ہفتے میں عدالت کے روبرو پیش کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ثالثی سے مصالحت کا عمل آٹھ ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ یہ کام ایک ہفتے میں شروع ہو گا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ کہ اگر ثالثی کے عمل میں دقت پیش آتی ہے تو ثالث پینل میں مزید ارکان شامل کیے جا سکتے ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ثالثی کا پورا عمل رازداری میں ہو گا اور میڈیا کو اس کے بارے میں خبر دینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ' ثالثی کے عمل کی کامیابی کے لیے اسے انتہائی رازداری میں کرنا ضروری ہے۔'
بابری مسجد - رام مندر کے تنازعے پر 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے تینوں فریقوں میں برابر برابر زمین تقسیم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا ۔ اس فیصلے کو تینوں فریقوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
عدالت عظمی نے اسی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے اس معاملے کو اب ثالثی کے ذریعے حل کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایودھیا کی پانج سو برس پرانی بابری مسجد کو چھ دسمبر 1992 کو ہندوؤں کے ایک ہجوم نے منہدم کر دیا تھا۔ ملک کے بہت سے ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ ان کے بھگوان رام چندر اسی مقام پر پیدا ہوئے تھے جہاں مسجد بنی ہوئی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 1528 عیسوی میں بابری مسجد بھگوان رام کے مندر کو توڑ کر اسی مقام پر بنائی گئی تھی۔
ایودھیا ہندوؤں کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہاں مسلمانوں کی بھی درجنوں درگاہیں ، مساجد اور مقبرے واقع ہیں ۔ ایودھیا میں مختلف مقامات پر صدیوں پرانے آثاروں اور باقیات سے یہاں ماضی میں مسلم آبادیوں کا پتہ چلتا ہے تاہم ایودھیا میں اب مسلمانوں کی بہت کم آبادی ہے۔