آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ارب پتی تاجر وجے مالیا کے خلاف برطانوی عدالت کا فیصلہ: ’انڈیا کے حوالے کر دینا چاہیے‘
برطانوی عدالت نے بھارتی حکومت کو مطلوب بھارت کے ارب پتی بزنس مین وجے مالیا کو بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ دے دیا ہے۔
برطانوی عدالت کا یہ فیصلہ وزارت داخلہ کو بھیجا جائے گا جو وجے مالیا کو بھارت کی تحویل میں دینے کے انتظامات کرے گی۔
ویسٹ منسٹر کے میجسٹریٹ کی عدالت نے وجے مالیا کی حوالگی کے بارے میں فیصلہ سنایا۔
وجے مالیا جن کے اربوں روپے کے کاروبار میں بئیر بنانے والی کمپنی کنگ فشر بھی شامل ہے، بھارت سے سن 2016 میں تقریباً ایک ارب ڈالر کے قرضے کو ادا کیے بغیر برطانیہ آگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیئے
ان کا کہنا ہے کہ وہ بھارت سے فرار نہیں ہوئے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اگلے برس جولائی تک تمام کا تمام قرضہ ادا کردیں گے۔
وجے مالیا نے اپنا کاروبار انڈین کرکٹ اور فارمولہ ون کار ریس میں لگانے سے پہلے اپنی بزنس امپائر کنگ فشر بئیر کے ذریعے بنائی تھی۔ انھوں نے کنگ فشر کے نام کی ایک ائر لائین کمپنی بھی شروع کی تھا جو کہ اب غیر فعال ہو چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھیں کنگ فشر ائر لائین میں مالیاتی بد عنوانی کے کئی ایک الزامات کا سامنا ہے۔ ان کے مالیاتی معاملات کی بھارتی تفتیشی ادارہ سی بی آئی چھان بین کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی مالیاتی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے والا ادارہ اینفورسمینٹ ڈائیریکٹوریٹ بھی تفتیش کر رہا ہے۔
وجے مالیا نے سن 2012 میں اپنی کمپنی یونائیٹڈ گروپ کے کافی حصص برطانیہ کی مشروبات بنانے والی کمپنی ڈائاجیو کو فروخت کیے تھے۔ اس سودے کے ذریعے وجے مالیا کو اتنی رقم مل سکتی تھی کہ وہ یونائیٹڈ گروپ کے قرضے اتار سکتے اور کنگ فشر میں سرمایہ کاری سکتے۔
لیکن کنگ فشر ائر لائین سن 2012 میں ہی بیٹھ گئی تھی، اگلے برس اس کا لائسنس بھی ختم ہوگیا۔ اس طرح ائر لائین کمپنی نے مسلسل پانچ برس تک نقصان اٹھایا اور بالآخر بینکوں نے انھیں مزید قرصہ دینے سے انکار کر دیا۔
وجے مالیا کے کُل قرضے بشمول واجب الادا تنخواہیں سب مل کر تقریباً ایک ارب ڈالرز سے زائد بنتے ہیں۔
وہ اپنی پُر تعیش طرزِ زندگی کی وجہ سے انڈیا میں ایک معروف بزنس مین اور "کنگ آف گُڈ ٹایمز" کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔