آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں دوران پرواز پائلٹ کی غلطی سے درجنوں مسافر زخمی
انڈیا میں دوران پرواز پائلٹ کی جانب سے جہاز کے اندر دباؤ کو برقرار رکھنے کے سوئچ کو آن نہ کرنے کی وجہ سے 30 سے زیادہ مسافروں کی ناک اور کانوں سے خون نکلنا شروع ہو گیا۔
جیٹ ایئر ویز کی فلائٹ 9 ڈبلیو 697 ممبئی سے جے پور جا رہی تھی اور پرواز کی تھوڑی دیر بعد حادثہ پیش آنے کی وجہ سے طیارے کو واپس لینڈ کرنا پڑا۔
طیارے میں سوار مسافروں نے ویڈیوز کو ٹوئٹر پر پوسٹ کیا ہے جس میں مسافروں کے لیے آکسیجن ماسک دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
جیٹ ایئر ویز کے بوئنگ 737 جہاز میں 166 مسافر سوار تھے۔ شہری ہوا بازی کے وزیر کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسافر دریشک ہیتھی نے طیارے کے اندر سے ایک ویڈیو ٹویٹ کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے میں ہوا کا دباؤ کم ہونے کے بعد آکسیجن ماسک باہر نکل آئے۔
ایک دوسرے مسافر سیتش نائر نے ایک تصویر ٹویٹ کی ہے جس میں خود ان کے ناک سے خون بہہ رہا ہے اور ساتھ شکایت کر رہے ہیں کہ ایئر لائن نے مسافروں کی حفاظت کو بالکل نظر انداز کر دیا۔
انڈیا میں شہری ہوا بازی کے نگران ادارے کے سینیئر اہلکار للت گپتا نے انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ جہاز کا عملہ دوران پرواز جہاز میں ہوا کے دباؤ کو برقرار رکھنے کا سوئچ آن کرنا بھول گیا تھا۔
جیٹ ایئر ویز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کی صبح کیبن کے اندر ہوا کا دباؤ کم ہونے کے نتیجے میں پرواز واپس بلائی گئی اور انھیں مسافروں کو پہنچنے والی تکلیف پر شرمندگی ہے۔
بیان کے مطابق بوئنگ 737 میں 166 مسافر اور عملے کے 5 ارکان سوار تھے اور یہ پرواز بحفاظت ممبئی لینڈ کر گئی اور مسافروں کو ٹرمینل پر منتقل کیا گیا جہاں ان مسافروں کو ابتدائی طبی امداد دی گئی جنھوں نے کان اور ناک سے خون بہنے کی شکایت کی تھی۔
جنوری میں جیٹ ایئر ویز میں دو پائلٹس کو ان اطلاعات کے بعد گراؤنڈ کر دیا تھا کہ لندن سے ممبئی پرواز کے دوران ان کی کاک پٹ میں لڑائی ہوئی تھی۔ اس پرواز پر 324 مسافر سوار تھے اور یہ حفاظت سے لینڈ کر گئی تھی۔