مدرٹریسا چیرٹی ہوم سے نومولود بچے کی فروخت پر گرفتاریاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی ریاست جھارکھنڈ میں پولیس نے مدر ٹریسا کے نام سے منصوب فلاحی ادارے کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کو نومولود بچے کو بیچنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں پولیس نے ایک عورت کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دو مزید خواتین سے چیرٹی ہوم سے بچوں کو بیچنے کے شبہے میں پوچھ گچھ جاری ہے۔
پولیس نے مدر ٹریسا چیرٹی ہوم کے ساتھ کام کرنے والی خاتون کو گرفتار کرنے کا فیصلہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی شکایت پر کیا ہے۔
بی بی سی نے چیرٹی سے ان موقف جاننے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔
پولیس اہلکار نراج سنہا نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ اس سینٹر سے کچھ اور بچوں کو بھی غیرقانونی پر فروخت کیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ ایسی ماؤں کے نام حاصل کر لیے گئے ہیں جن کے بچوں کو بیچا گیا ہے اور اس سلسلے میں مزید تحقیق جاری ہے۔
پولیس نے سینٹر سے ایک لاکھ 40 ہزار روپے بھی برآمد کیے ہیں۔
نوبیل انعام یافتہ مدر ٹریسا کا 1997 میں انتقال ہو گیا تھا۔ انھوں نے 1950 مشنریز آف چیرٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی چیئرمین روپا کماری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس اترپردیش کے ایک جوڑے کو ایک لاکھ 20 ہزار کے عوض بچے کو بیچنے کے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمیٹی کی چیئرمین نے بتایا کہ اس جوڑے کو بتایا گیا تھا کہ یہ رقم میڈیکل اخراجات کے سلسلے میں لی جا رہی ہے۔
روپا کماری نے مزید بتایا کہ جب کسی حاملہ عورت کو چیرٹی ہوم میں رکھا جائے تو کہ اس کی اطلاع چائلڈ ویلفیر کمیٹی کو دی جانی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کیمٹی کو معلوم ہوا کہ دوسرے شہروں میں بھی بچوں کو 50 سے 70 ہزار روپے کے عوض فروخت کیا گیا ہے۔
چائلڈ ویلفیئر کیمٹی نے مدر ٹریسا چیرٹی میں مقیم 13 حاملہ عورتوں کو مختلف جگہوں پر منتقل کر دیا ہے







