آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان: طالبان کا جنگ بندی میں توسیع سے انکار، سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں شروع کرنے کا اعلان
افغانستان میں عید کے موقع پر جاری تین دن کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد طالبان نے جنگ بندی میں مزید توسیع کو مسترد کر دیا ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ اتوار کی شب یعنی آج جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کر دیں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل امن کونسل نے جنگجوؤں پر زور دیا تھا کہ وہ دوبارہ سے جنگ کی جانب نہ لوٹیں۔۔
اسی بارے میں مزید پڑھیں!
افغان صدر اشرف غنی نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے افغان طالبان کے ساتھ جنگ بندی میں یک طرفہ طور پر توسیع کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت طالبان کے ساتھ جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنگ بندی کے دوران درجنوں غیر مسلح طالبان جنگجو کابل اور دوسرے شہروں میں داخل ہوئے اور شہریوں سے عید ملے۔
دوسری جانب حکام کے مطابق مغربی صوبے ننگرہار کے شہر جلالہ آباد میں ایک خودکش حملے میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ گورنر کے دفتر کے باہر ہوا ہے۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکہ اُس وقت ہوا جب عید پر ہونے والی جنگ بندی کے دوران گورنر طالبان کے ایک گروہ سے ملاقات کر رہے تھے۔
اس سے ایک روز قبل ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم 36 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں طالبان جنگجوں اور عام شہری شامل تھے۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
اس سے پہلے عیدالفطر کے موقع پر تین روزہ جنگ بندی کے دوران افغان طالبان اور حکومتی افواج کو ایک دوسرے سے گلے ملتے دیکھا گیا۔
عیدالفطر کے موقع پر تین روزہ جنگ بندی کے دوران دارالحکومت کابل میں افغان طالبان جنگجوؤں نے وزیر داخلہ ویس برمک کے ساتھ ملاقات بھی کی۔
افغان صدر کا جنگ بندی میں توسیع کا اعلان
صدر اشرف غنی نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ حکومت طالبان کے ساتھ جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے طالبان کے حوالے سے کہا کہ وہ تمام مسائل اور مطالبات جو سامنے رکھیں جائیں گے ان پر امن مذاکرات میں بات کرنے پر تیار ہیں۔
صدر اشرف غنی نے کہا کہ مقدس ماہِ رمضان کے اختتام پر عید الفطر کے موقع پر طالبان اور حکومتی فورسز ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر ہوئے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم سب امن چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے چند طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے اور جنگ بندی کے دوران طالبان جنگجو طبی اور انسانی امداد حاصل کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ قید میں طالبان اپنے خاندان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپئیو نے کہا ہے کہ امن مذاکرات میں بین الاقوامی فورسز اور فریقین کے کردار کے بارے میں بھی بات ہونی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ فریقین کے ساتھ امن معاہدے اور سیاسی حل کے لیے مل کر کام کرنے پر تیار ہے اور اس کے نتیجے میں اس جنگ کا مستقل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں افغان طالبان نے حکومت کے ساتھ کسی قسم کے خفیہ مذاکرات کی تردید کی تھی۔
صدر اشرف غنی نے افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں پاکستانی طالبان کے کمانڈر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔
کیا ہوتا رہا ہے؟
افغان نیوز چینل طلوع نیوز نے شمالی شہر قندوز کی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں ایک جنگجو کو افغان سپاہی کے ساتھ گلے ملتے دیکھا جا سکتا ہے۔
چینل ون نے کابل کے جنوب میں واقع شہر غزنی میں جنگجوؤں اور سپاہیوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔
جنگ بندی کے موقع پر کابل میں بھی درجنوں کی تعداد میں غیرمسلح طالبان جنگجو داخل ہوئے ہیں۔
ایک تصویر میں ایک طالبان رکن کو افغان جھنڈے کے ساتھ شہر کے ایک پل پر دیکھا جا سکتا ہے جس کے ساتھ رہائشی سیلفیاں لے رہے تھے۔
وزیر داخلہ ویس برمک کے ساتھ بھی جنگجوؤں کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔
جنگ بندی کیسے ہوئی؟
افغان حکومت کی جانب سے بدھ تک یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد افغان طالبان نے بھی تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
گذشتہ سنیچر کو افغان طالبان نے اپنے گروپ میں شامل تمام جنگجوؤں کو ہدایت کی تھی کہ عید الفطر کی تعطیلات میں اپنی تمام کارروائیاں روک دیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ انھیں حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2001 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان میں کارروائیوں کے آغاز سے لے کر اب تک طالبان نے پہلی بار جنگ بندی کی ہے۔
امریکہ کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی افواج اور اتحادی جنگ بندی کا 'احترام' کریں گے۔
واضح رہے کہ فروری میں اشرف غنی نے طالبان کو پیشکش کی تھی کہ اگر طالبان قانون کی پاسداری کرتے ہیں تو وہ 'پیشگی شرائط' کے بغیر امن مذاکرات اور طالبان کو قانونی سیاسی گروہ تسلیم کر سکتے ہیں۔