آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’افغانستان میں بچوں کی تقریباً نصف آبادی سکول نہیں جاتی‘
امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بچوں کی تقریباً نصف آبادی سکول نہیں جاتی جس کی وجوہات میں شورش، غربت، بچیوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور بچوں کی شادی شامل ہیں۔
اتوار کو اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف اور یو ایس ایڈ کی جانب سے پیش کردہ مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد سنہ 2002 کے بعد پہلی مرتبہ بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں جاری کشیدگی کی وجہ سے سکولوں کو بند ہونا پڑا ہے جس کی وجہ سے ملک میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے آنے والے تھوڑی سی بہتری بھی رائیگاں ہو جائے گی۔
اسی بارے میں
افغانستان میں لاکھوں بچوں نے کبھی سکولوں میں قدم ہی نہیں رکھا۔
رپورٹ میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق ملک میں سات سے 17 سال عمر کے 37 لاکھ یعنی تقریباً 44 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رپورٹ کی اشاعت کے موقعے پر اس کی وضاحت کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم میر واعظ بالغی نے بتایا کہ سکول نہ جانے والے 37 لاکھ میں سے 27 لاکھ لڑکیاں ہیں۔
طالبان یا نام نہاد دولتِ اسلامیہ کا نام لیے بغیر میر بالغی کا کہنا تھا کہ بچوں کے سکول نہ جانے کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ ’بچوں کی تعلیم کسی بھی معاشرے میں سب سے ترقی کا سب سے اہم عنصر ہے۔‘ ان کہنا تھا کہ بچوں کی تعلیم غربت، جنگ، اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لیے اہم ترین آلہ ہے۔
امریکہ کی حمایت یافتہ مرکزی حکومت کو برطرف کرنے اور ملک میں شدید قدامت پسند اسلامی قوانین واپس لانے کے عزائم رکھنے والے طالبان بچیوں کی تعلیم کے شدید خلاف ہیں جبکہ دولتِ اسلامیہ نے بھی درجنوں سکولوں کو بند کروا دیا ہے۔
امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بدترین اضلاع میں 85 فیصد تک بچیاں سکول نہیں جاتیں۔
اس سال اپریل میں عسکریت پسندوں نے دو سکولوں کو آگ لگا دی تھی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے سینکڑوں نجی سکولوں کو بند کرنا پڑا ہے۔
یونیسیف کی اہلکار اڈیل کھودر کا کہنا تھا کہ افغانستان کو بدلنا پڑے گا، حالات ایسے ہی نہیں چل سکتے۔
’جب بچے سکولوں میں نہیں ہوتے تو انھیں غلط استعمال، ہراسانی، یا دہشت گرد تنظیموں میں شامل کرنے کا زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔‘