آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان طالبان کے جنگ بندی کے اعلان سے پہلے سکیورٹی فورسز پر حملے، 65 اہلکار ہلاک
افغان طالبان نے عید الفطر کے موقع پر تین دن کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاہم اس کا اطلاق غیر ملکی افواج پر نہیں ہو گا۔
دوسری جانب جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے افغان طالبان نے ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں جن میں کم از کم 65 اہلکار مارے گئے ہیں۔
سنیچر کو افغان طالبان نے اپنے گروپ میں شامل تمام جنگجوؤں کو ہدایت کی ہے کہ عید الفطر کی تعطیلات میں اپنی تمام کارروائیاں روک دیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ انھیں حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
خیال رہے کہ 2001 میں امریکہ کے افغانستان میں حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
اس سے پہلے گذشتہ ہفتے ہی افغان حکومت نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان کا فیصلہ شدت پسندوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ ’ان کی پرتشدد مہم‘ افغان عوام کے دل و دماغ نہیں جیت رہی بلکہ انھیں افغان عوام سے الگ تھلگ کر رہی ہے۔
افغان حکومت نے اگرچہ طالبان کو جنگ بندی کی پیشکش کی تھی تاہم اس نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند گروہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ صدر اشرف غنی کی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی پہلی غیر مشروط پیشکش کی تھی اور اس سے پہلے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد فتویٰ جاری کیا گیا تھا جس میں شدت پسندوں کی تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی تھی۔
یہ مذہبی رہنما خود دولتِ اسلامیہ کے ایک حملے میں نشانہ بنائے گئے تھے جب کابل میں نصب امن کے خیمے کے داخلی دروازے پر خود کش حملے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اب یہ واضح نہیں کہ جنگ بندی کا اطلاق کب سے ہو گا کیونکہ عید الفطر کا اعلان چاند نظر آنے پر ہو گا تاہم افغان حکومت کے کلینڈر کے مطابق رمضان کا اختتام 15 جون کو ہو گا۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں اس کی فوج اور اتحادی جنگ بندی کا احترام کریں گے۔
خیال رہے کہ اس وقت افغانستان میں غیر ملکی افواج کی تعداد 15 ہزار کے قریب ہے اور گذشتہ برس امریکی صدر نے فوج کو نکالنے کی ڈیڈ لائن دیے بغیر ملک میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں اضافے کا حکم دیا تھا۔
جنگ بندی کے اعلان سے پہلے افغان فورسز پر حملے
افغانستان کے جنوبی، مغربی اور شمالی علاقوں میں فورسز پر ہونے والے ان حملوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔
صوبے کندوز میں طالبان اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان لڑائی میں کم از کم 19 پولیس اہلکاروں اور نو شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
افغان طالبان کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ان کے جنگجوؤں نے قندوز اور سرِ پل، ہیرات اور قندھار میں حملے کیے۔
اس کے علاوہ قندھار میں ہونے والے حملے میں افغان فوج کے کم از کم 23 اہلکار ہلاک اور 9 زخمی ہو گئے۔
اس سے قبل مغربی صوبے ہرات میں صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جمعہ کو طالبان نے ایک حملے میں کم از کم 17 افغان فوجی ہلاک کر دیے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں آٹھ طالبان بھی ہلاک ہوئے تھے۔