آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا چين واقعی اروناچل پردیش میں پاؤں جما چکا ہے؟
چین کی سرکاری میڈیا نے اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے، جس کے مطابق چین کی کان کنی کی مہم انڈیا کے ساتھ اس کے متنازع علاقے تک پہنچنے والی ہے اور ہمالیہ دوسرا ساؤتھ چائنا سی یا جنوبی بحیرۂ چین بن سکتا ہے۔
20 مئی کو شائع ایک رپورٹ کہا گیا ہے کہ چین ہیونزے میں بڑے پیمانے پر کھدائی کر رہا ہے جہاں قیمتی معدنیات مل رہی ہیں۔
چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایس سی ایم پی میں شائع رپورٹ انڈین میڈیا کی ان رپورٹوں کی طرح ہے جو چین اور انڈیا کے درمیان حساس معاملات کو بھڑکانے کا کام کرتی ہے۔
گذشتہ سال موسم گرما میں ہی انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر تعطل سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ حالیہ برسوں کے دوران انڈیا اور چین کی جانب سے سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر پیسے لگائے گئے ہیں۔
انڈیا کے ساتھ نئی فوجی کشیدگی
ایس سی ایم پی کی رپورٹ کے مطابق چین اس کان کنی کے ذریعہ جنوبی تبت پر پھر سے اپنا ملکیت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کو چین جنوبی تبت کہتا ہے۔
ہیونزے کا علاقہ جنوبی تبت میں ہے اور چین اروناچل پردیش کے کچھ حصے کو جنوبی تبت کا حصہ کہتا ہے۔
ایس سی ایم پی کی رپورٹ 'ہمالیہ میں چین کی کان کنی سے انڈیا اور چین کے درمیان نئی فوجی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ' کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں کہ وہاں گہری سرنگیں کھودی جا رہی ہیں۔ بجلی فراہم کر دی گئی ہے اور ایک ایئر پورٹ کی تعمیر بھی جاری ہے۔
رپورٹ میں بیجنگ میں قائم چائنا یونیورسٹی آف جیو سائنسز کے ایک پروفیسر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ہمالیہ میں چینی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے پیش نظر کھدائی جاری ہے۔
اس سے علاقے میں چینی آبادی کو استحکام حاصل ہو گا اور انڈین علاقے میں کسی بھی قسم کی فوجی مہم کو انجام دینے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ 'یہ ساؤتھ چائنا سی کی ہی طرح ہے۔'
رپورٹ میں چین کے شہر ووہان میں قائم چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے ریسرچر کا حوالہ بھی ہے جن کا کہنا چین نے جو کام ساؤتھ چائنا سی میں کیا ہے وہی کام یہ ہمالیہ کے علاقے میں کرنا چاہتا ہے۔
انڈین میڈیا میں ہنگامہ
ایس سی ایم پی کی رپورٹ کو ہندوستان کے بڑے میڈیا ہاؤسز نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس خبر کو ' ایک اور ٹکراؤ کے آثار' اور 'چین اروناچل کے پاس سونے کی کان کنی کر رہا ہے' جیسی سنسنی خیز شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا گیا۔
ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو چین کا دورہ کیے ابھی ایک ماہ بھی نہیں ہوا ہے اور یہ سب شروع ہو گیا ہے۔ کئی انڈین نیوز سائٹ پر انڈیا اور چین کے رشتوں پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔
انڈیا کے اخبار ٹائمز آف انڈیا میں اس کے متعلق اداریہ شائع ہوا ہے جس میں چین کی نیت پر شک ظاہر کیا گیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ کھدائی کے معاملے میں دونوں ممالک کو اپنے خدشات دور کرنے چاہیے۔ اس کے علاوہ دوسرے اخباروں میں بھی اس خبر کو شہ سرخيوں میں شائع کیا گيا ہے۔
بے بنیاد ہنگامہ
چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے کہ ایس سی ایم پی کی رپورٹ میں حقائق کی کمی ہے اور اس کا ساؤتھ چائنا سی سے موازنہ مضحکہ خیز ہے۔
گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے کہ پہلی نظر میں ہی چینی باشندوں کو یہ رپورٹ جھوٹی لگی۔ یہ انڈیا اور چین کے رشتوں میں شگاف ڈالنے کی کوشش ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے کہ اس رپورٹ سے انڈیا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ سرحدی تنازع میڈیا کے بجائے دونوں ممالک کی حکومتوں کو حل کرنا ہے۔ اس طرح کی رپورٹیں عوامی جذبات کو مشتعل کرے کے لیے ہوتی ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایس سی ایم پی کی رپورٹ کا نوٹس لیا ہے۔ بہرحال خارجہ وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ ایس سی ایم پی کی رپورٹ میں جس علاقے کا ذکر کیا گیا ہے وہ مکمل طور پر چینی علاقہ ہے۔
وزارت نے کہا ہے کہ 'چین اپنے علاقے میں باقاعدگی سے تحقیقاتی کام کرتا ہے۔ یہ ہماری خود مختاری کے تحت آتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ میڈیا ان معاملوں کو سنسنی خیز بنا کر پیش نہیں کرے گی