چین: والدین کی موت کے چار سال بعد بچے کی ولادت

،تصویر کا ذریعہchina photos
چین میں ایک ایسے بچے کی ولادت ہوئی ہے جس کے اصل والدین چار سال قبل ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے اور اس کو جنم دینے والی خاتون اس کی سروگیٹ یا متبادل ماں ہے۔
ہلاک ہونے والے جوڑے نے اس امید پر اپنے ایمبریوز منجمد کروا لیے تھے کہ وہ آئی وی ایف (بچوں کی پیدائش کا مصنوعی طریقہ) سے اولاد حاصل کر سکیں۔
حادثے کے بعد اِن کے والدین کے مابین طویل عرصے تک جاری رہنے والی قانونی جنگ کے جمے ہوئے ایمبریوز کو استعمال کرنے کی اجازت ملی۔
اخبار دی بیجینگ نیوز نے سب سے پہلے اس واقعے کی خبر دی کہ دسمبر میں اس بچے کی پیدائش ہوئی ہے اور اس کی متبادل ماں کا تعلق لاؤس سے ہے۔
اس بچے کے والدین نے نانجنگ ہسپتال میں ایمبریوز محفوظ کرنے کے لیے منفی 196 ڈگری کے درجہ حرارت پر مائع نائٹروجن ٹینک میں رکھوایا ہوا تھا۔
مرنے والے جوڑے کے والدین کے مابین قانونی جنگ کے بعد انھیں ان ایمبریوز کو استعمال کرنے کی اجازت ملی۔
عدالت سے اجازت ملنے کے بعد دوسری مسئلہ اس وقت کھڑا ہوا جب یہ معلوم ہوا کے نانجنگ کا ہسپتال محفوظ کیے ہوئے ایمبریوز کو صرف اسی صورت میں نکالے گا اگر اس بات کا ثبوت ہو کہ کوئی دوسرا ہسپتال اسے محفوظ کرنے کے لیے تیار ہے۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
لیکن کیونکہ اس معاملے میں قانونی طور پر مکمل وضاحت نہیں ہے اس لیے چین میں کوئی اور ایسا ادارہ ڈھونڈنا دشوار تھا اور چین میں متبادل ماں کے ذریعے پیدائش غیر قانونی ہے اس لیے مسئلے کا واحد حل کے لیے ملک سے باہر دیکھنا ضروری تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مرنے والے جوڑے کے والدین نے متبادل ماؤں کے حوالے سے قائم ایک ایجنسی سے رابطہ کیا اور لاؤس کی جانب رخ کیا جہاں یہ کام قانونی ہے۔
لاؤس میں متبادل ماں میں وہ ایمبریو منتقل لکیا گیا اور گذشتہ سال دسمبر میں بچے کی ولادت ہوئی۔
ٹیان ٹیان نامی بچے کی شہریت کی میں ہونے والے ابہام کو ختم کرنے کے لیے اس خاتون نے چین کا سفر کیا جہاں اس نے بچے کو جنم دیا۔











