کیا انڈین مسلم کشمیر میں غصہ نکال رہے ہیں؟

کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ہوجائی ضلع کے رہائیشی چوبیس سالہ قمرالزمان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ ان کے ہاتھ میں بندوق ہے اور عنوان میں انہیں ڈاکٹر ہریرہ کے کوڈ سے متعارف کرکے انہیں حزب المجاہدین کا رکن بتایا گیا ہے۔

آسام کے ایک آسودہ حال خاندان سے تعلق رکھنے والے قمر دراصل گزشتہ برس جولائی سے گمشدہ ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان کی مسلح تصویر کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی والدہ شاہدہ خاتون نے کہا ہے کہ یہ اُن ہی کا بیٹا ہے، جو 12 سال قبل امریکہ سے انگریزی میں اعلی ڈگری حاصل کرکے لوٹے تھے۔

خبررساں ایجنسیوں نے اُن کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے :"اگر وہ کسی دہشت گرد گروہ میں شامل ہوا ہے تو وہ وطن دشمن ہے اور اسے گولی مار کر ہلاک کیا جائے۔"

یہ بھی پڑھیے

قمر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تین سال قبل وہ ملبوسات کی تجارت کے لیے کشمیر گیا تھا لیکن گزشتہ برس سے گمشدہ ہے۔

آسام کے پولیس افسر پلب بھٹہ چاریہ نے کہا ہے کہ انہوں نے جموں کشمیر پولیس کو مطلع کیا ہے، تاہم ابھی تک کشمیر پولیس نے اس بات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم پولیس کے ایک اعلیِ افسر نے نام مخفی رکھنے پر بتایا کہ ’کچھ اشارے ملے ہیں، لیکن مکمل معلومات کے بعد ہی اس کی سرکاری طور تصدیق کی جائے گی۔‘

فساد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی ریاست بنگال میں اور بہار میں متعدد فسادات کے واقعات ہوئے ہیں

اس سے قبل مارچ میں جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں مسلح تصادم میں 26 سالہ توفیق احمد مارے گئے، جن کی شناخت تیلنگانہ ریاست کے رہائیشی کے طور ہوئی۔ دس سال قبل بھی ایک بھارتی مسلم نوجوان یہاں ہوئے ایک تصادم میں مارا گیا۔

بھارت کی ایک ارب پچیس کروڑ آبادی میں مسلمانوں کی تعداد سترہ کروڑ سے زیادہ ہے۔ 2000 جب اُسوقت کے امریکی صدر نے بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے کہا اتنی بڑی تعداد میں مسلمان ہونے کے باوجود ہندوستان سے ایک بھی مسلمان شہری القاعدہ سے متاثر نہیں ہوا۔ لیکن گزشتہ تین سال سے کشمیر میں مسلح شورش کی نئی لہر کے بعد قمر الزمان اور توفیق جیسے بھارتی مسلم نوجوان کشمیر کی مسلح تحریک میں شامل ہورہے ہیں۔ پولیس اور فوج نے پہلے ہی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی سیاست پر بی جے پی کے غلبے اور اس کے بعد مسلمانوں کے ساتھ ہوئی زیادتیوں نے بھارتی مسلمانوں میں انتقامی جذبہ پیدا کیا ہے ۔

مصنف اور کالم نویس پی جی رسول کہتے ہیں ’یہ بہت سنگین صورتحال ہے۔ ابھی تو بھارتی مسلمان کشمیر میں اپنا غصہ دکھا رہے ہیں، اگر خدانخواستہ وہ بھارتی دوسری مسلح تحریکوں جیسے نکسلیوں یا ماو نوازوں کے ساتھ مل گئے تو غضب ہوجائے گا۔‘

کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کشمیر کو مسلح تشدد کے لیے ذرخیز رکھنے میں بھارت کی نئی پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔ اگر کشمیر میں حکومت ہند سنجیدہ امن عمل شروع کرتی اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرتی تو یہ جگہ میدان جنگ نہیں بنتی۔‘

بھارتی مسلم نوجوانوں کا تشدد کی طرف مائل ہونے کا رحجان ابھی بہت سست ہے، تاہم بھارتی مسلمانوں میں بھی اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

یہاں کے اکثر حلقے اس رجحان کے لیے حکومت کی خالص سیکورٹی پالیسی کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کہتے ہیں ’کشمیریوں کو مارنا اور ان کے قتل میں ملوث فوجیوں کو تمغے دینا نئی پالیسی ہے۔ اور اس پالیسی کو میڈیا میں قومی مفاد کہا جارہا ہے۔ کشمیر میں بھی مسلمان ہیں۔ یہ سب بھارتی مسلمان دیکھ رہا ہے، اسے عدم تحفظ کا احساس ہے اور وہ سمجھتا ہے کشمیر کے بعد اس کی باری ہے۔ ظاہر ہے نوجوان جذباتی ہوتے ہیں اور پھر کشمیر میں تشدد کا ماحول ہے وہ یہاں اپنے جذبات کا اظہار کرنے آجاتے ہیں۔‘