ٹروڈو واپس چلے ہی گئے!

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
تو کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو آخرکار واپس چلے ہی گئے!
آٹھ دن کے سرکاری دورے میں ان کی مہمان نوازی ہوئی یا انھیں نظرانداز کیا گیا، یہ سوچنے کے لیے ان کے پاس اب وقت ہی وقت ہے، لیکن کچھ سوال ہیں کہ جن کا جواب ملنا ابھی باقی ہے۔
اس دورے کے لیے انھوں نے انڈیا سے ضد کی تھی کہ انھیں بلایا جائے یا انڈیا نے اصرار کیا تھا کہ وہ آئیں؟
یہ بھی پڑھیے
اگر وہ ضد کرکے آئے تھے تو جو ہوا یا نہیں ہوا، اس کے لیے وہ خود ذمہ دار ہیں لیکن اگر انھیں بلایا گیا تھا تو ان کے ساتھ وہ کیوں کیا گیا جو بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ کسی بھی مہمان کے ساتھ ہونا نہیں چاہیے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر واقعی حکومت ہند کی یہ حکمت عملی تھی کہ چلو پہلے جسٹن ٹروڈو کو بلاتے ہیں، پھر ہم سب ایسے بن جائیں گے جیسے وہ بن بلائے آئے ہوں، خوب مزہ آئے گا! وہ ایئرپورٹ پر اتریں گے تو ہم کہہ دیں گے کہ ارے معاف کیجیے گا، گاڑی بھیجنا بھول گئے، آپ ٹیکسی کر کے آ جائیے، وہ ہمایوں کا مقبرہ یا قطب مینار دیکھنے جائیں گے تو کسی سرکاری افسر کو ان کے ساتھ نہیں بھیجیں گے، جب وہاں لمبی لائن میں لگ کر غیرملکی سیاحوں والا مہنگا ٹکٹ خریدنا پڑے گا تو پتہ چلے گا کہ ہم سے ٹکرانا سمجھداری کی بات نہیں ہے۔
جسٹن ٹروڈو پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے، ہر موقع اور ہر محل کے لیے الگ لباس، صرف اپنے لیے ہی نہیں بیوی بچوں کے لیے بھی، سب میچنگ اور سب ’ایتھنک‘ ہندوستانی!
اس فیشن شو کے لیے بھی ان کا کافی مذاق بنا، سوشل میڈیا پر لوگ یہ کہتے رہے کہ اب بس بھی کر دیں، ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کسی فیشن لیبل کے لیے ماڈلنگ کر رہے ہوں، کچھ ایسے کپڑے بھی لیتے آتے جو آپ عام طور پر پہنتے ہیں!
لیکن یہ مذاق کی بات نہیں تھی۔ اس دورے سے ایک بنچ مارک قائم ہوا ہے، دنیا میں اب کہیں بھی کوئی سرکاری دورہ ہوگا تو اسے اسی معیار پر پرکھا جائے گا۔ طاقتور سربراہان حکومت ہوائی جہاز سے اترنے سے پہلے اپنے عملے سے یہ پوچھا کریں گے کہ ذرا چیک تو کرو، مہمان ملک کی طرف سے ٹوئٹر پر استقبال ہوا ہے کہ نہیں؟ کوئی لینے آیا ہے یا نہیں یا ٹیکسی ڈرایئور ہی کاغذ پر نام لکھ کر باہر کھڑا ملے گا: "وزیر اعظم۔۔۔ آپ کا استقبال ہے۔"

،تصویر کا ذریعہGetty Images/MONEY SHARMA
اگر ٹویٹ نہیں کیا ہے تو اسی جہاز سے واپس چلتے ہیں، کہیں ہمارے ساتھ بھی وہ نہ ہو جو ٹروڈو کے ساتھ انڈیا میں ہوا تھا!
لیکن خود وزیر اعظم نریندر مودی کیا اب کبھی کینڈا کا سفر کریں گے؟ یا کینیڈا دنیا کا وہ واحد ملک ہو گا جو ان کے دورے سے محروم رہ جائے گا؟ ٹوگو اور برونئی کے حکمراں جب کینیڈا کی سیاسی قیادت سے ملا کریں گے تو کیا یہ نہیں کہیں گے کہ آپ سےتو ہم ہی بہتر رہے، ہمارے یہاں تو وہ کئی مرتبہ آئے!
خیر اس سوال کا جواب کافی آسان ہے۔ نریندر مودی پہلے ہی کینیڈا کا سفر کر چکے ہیں، وہ بہت شاطر سیاستدان ہیں اس لیے ٹروڈو کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی ہو آئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ٹوگو اور برونئی کی حکومتوں کے پاس ان ممالک کی پوری فہرست نہ ہو جہاں وہ جا چکے ہیں۔
خود وزیر اعظم کس کیفیت سے گزر رہے ہوں گے؟ اگلے کسی بھی دورے سے پہلے یہ بات ذہن میں آئے گی ضرور کہ کہیں وہ نہ ہو جائے جو ہم نے کیا تھا، یا جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے کیا تھا۔
انڈیا میں سینیئر صحافی کرن تھاپر کا کہنا ہے کہ اگر جسٹن ٹروڈو کا استقبال کرنے نریندر مودی خود نہیں جانا چاہتے تھے تو وزیر خارجہ سشما سوراج کو ہی بھیج دیتے۔ خالصتان کی تحریک کی حمایت یا ہمدردی کے بارے میں انڈیا کے جو بھی خدشات تھے، ان سے ٹروڈو کو خوشگوار ماحول میں زیادہ بہتر طور پر آگاہ کرایا جا سکتا تھا۔
بہرحال، جو ہونا تھا سو ہو گیا۔ اگلی بار آنے والے اور بلانے والے دونوں ہوشیار رہیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ مہمان رہنما اب کہیں کہ بھائی آ تو جائیں گے لیکن پروٹوکول کی تحریری ضمانت دینا ہو گی! آج کل زبانی وعدوں پر اعتبار کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images/SAM PANTHAKY
میرے ایک دوست صحافی کا کہنا ہے کہ سرد مہری کی خبریں صرف قیاس آرائی ہیں، اور انھوں نے کسی سرکاری افسر کو یہ کہتے نہیں سنا کہ مسٹر ٹروڈو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ بالکل غیرمعمولی مشاہدہ ہے۔ حکومتیں کسی کو بلا کر یہ اعلان نہیں کرتیں کہ آپ کو سبق سکھانے کے لیے بلایا گیا ہے۔۔۔ بس اشارے دیے جاتے ہیں، اس مرتبہ وہ کچھ زیادہ ہی واضح تھے جیسے حکومت کو یہ ڈر ہو کہ ٹروڈو سمجھیں گے کہ نہیں۔
اس قیاس آرائی کے شروع ہونے کے بعد بھی وزیر اعظم ٹویٹ کر سکتے تھے، کہہ دیتے کہ نیٹ ورک ڈاؤن تھا، یا وزیر خارجہ یہ بیان دے دیتیں کہ مہمان رہمنا کا دورہ بہت اہم ہے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق ہی چل رہا ہے۔
سوال تو بہت ہیں لیکن سب سے اہم یہ ہے کہ ٹروڈو اب ان ڈیزائنر کپڑوں کا کیا کریں گے جو انھوں نے انڈیا آنے کے لیے خریدے تھے، وہ کڑھی ہوئی اچکنیں اور رنگ برنگے کرتے۔۔۔ کہیں وہ یہ نہ سوچنے لگیں کہ کپڑے تو خرید ہی رکھے ہیں، چلو ایک چکر اور مار لیتے ہیں!









