بابری مسجد کیس: انڈین سپریم کورٹ کی تاریخ کا مشکل ترین فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا کی سپریم کورٹ بابری مسجد رام مندر کے مقدمے کی حتمی سماعت منگل سے شروع کر رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا ایک آئینی بنچ اس پیچیدہ مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرے گا۔ عدالت عظمیٰ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایودھیا کی منہدم شدہ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کس کی ہے۔
اس سے قبل الہ آباد ہائی کورٹ نے سنہ 2010 میں اپنے فیصلے میں متنازع زمین کو مقدمے کے ایک مسلم اور دو ہندو فریقوں کے درمیان برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ تینوں فریقوں نے عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
یہ مقدمہ کتنا پیچیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند مہینے قبل خود سسپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ہندو اور مسلم رہنماؤں کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ اس تنازعے کو عدالت سے باہر مصالحت سے حل کرنا چاہتے ہیں تو وہ ثالثی کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی پیشکش کو مسلمانوں نے قبول نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں
بابری مسجد ایودھیا میں سنہ 1528 میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہندوؤں کا دعوی ہے کہ یہ مسجد ہندوؤں کے دیوتا بھگوان رام کی جائے پیدائش پر بنے ہوئے مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی۔ لیکن اب تنازع یہ ہے کہ یہ زمین اصل میں کس کی ہے۔
سنہ 1980 کے عشرے میں بی جے پی کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تحریک شروع کی گئی تھی جو سنہ 1992 میں پانچ سو برس پرانی بابری مسجد کے انہدام پر ختم ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہدام کے بعد مسجد کے مقام پر ایک عارضی رام مندر بنا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس وقت سے کسی اضافی تعمیر پر پابندی لگا رکھی ہے۔ مندر کی تعمیر کے لیے حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر قانونی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مقدمہ صرف زمین کے تنازعے کا ہے۔ عدالتیں ملیکت کے تعین کے لیے صرف ماضی کی دستاویزات اور مقامی محکمہ موصولات کے ریکارڈ دیکھتی ہیں۔
لیکن قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عدالت عظمیٰ کی تاریخ کا سب سے مشکل فیصلہ ہو گا کیونکہ زمین کے اس تنازعے کا تعلق صرف ملکیت سے نہیں مذہبی عقائد سے بھی ہے اور اس سے مذہبی قوم پرستی کے جذبات بھی وابستہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
بی جے پی، آر ایس ایس اور اس سے وابستہ ہندو تنظمیں یہ امید کر رہی ہیں کہ سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا۔
اتر پردیش اور مرکز دونوں جگہ بی جے پی اپنی اکثریت سے اقتدار میں ہے۔ بی جے پی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ناموافق یا ہائی کورٹ جیسا رہا تو پارلیمنٹ میں ایک قانون بنا کر مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ' مندر وہیں بنے گا اور جلد بنے گا۔'









