بابری مسجد: بی جے پی کے 3 سینیئر رہنماؤں کے خلاف فرد جرم عائد

انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت نے بابری مسجد کی مسماری سے متعلق مقدمے میں بی جے پی کے تین سینیئر رہنماؤں کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی۔
بی بی سی اردو کے سہیل حلیم کے مطابق اس کیس میں اب سماعت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
اس سے پہلے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، سابق وزیر مرلی منوہر جوشی اور موجودہ وفاقی وزیر اوما بھارتی پر مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
بابری مسجد دسمبر 1992 میں مسمار کی گئی تھی لیکن اس کیس میں ابھی تک کسی کو سزا نہیں سنائی گئی ہے۔
الزام یہ ہے کہ مسجد کو ایک سازش کے تحت مسمار کیا گیا تھا جس میں ان تینوں رہنماؤں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسجد کی مسماری کے دن یہ رہنما ایودھیا میں موجود تھے جہاں بڑی تعداد میں ہندو کار سیوک یا رضاکار جمع ہوئے تھے اور ان رہنماوں کو کار سیوکوں کو اکسانے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
عدالت نے تینوں کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔ 25 برسوں میں یہ صرف دوسری مرتبہ تھا کہ لال کرشن اڈوانی عدالت میں پیش ہوئے۔
انھوں نے جج سے کہا کہ وہ سازش کے الزامات سے انکار کرتے ہیں اور یہ مقدمہ خارج کر دیا جانا چاہیے لیکن عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ یہ مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے اور عدالت دو سال کے اندر اپنا فیصلہ سنائے۔
بابری سمجد کی مسماری کے بعد ملک کے کئی شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے تھے جن میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔
لال کرشن اڈوانی کے لیے یہ مقدمہ بری خبر ہے کیونکہ اب ان کے لیے صدر جمہوریہ بننے کا راستہ بند ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر اوما بھارتی کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ کانگریس پارٹی ان سے اخلاقی بنیاد پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہے۔
ان رہنماؤں کے خلاف سازش کے الزامات تکینی وجوہات کی بنیاد پر ختم کر دیے گئے تھے جس کے بعد سی بی آئی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ہندوؤں کا ایک حلقہ مانتا ہے کہ جس جگہ بابری مسحد تعمیر تھی، وہاں ہزاروں سال پہلے ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے اس لیے وہاں ایک علیشان رام مندر تعمیر کیا جانا چاہیے۔
زمین کی ملکیت کا کیس فی الحال سپریم کورٹ میں ہے لیکن ابھی باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہوئی ہے۔







