انڈیا: نئے مسودۂ قانون کے تحت تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینے والوں کو تین سال قید کی سزا ہو گی

انڈیا میں ایک قانون کے مسودے پر غور کیا جا رہا جس کے تحت تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینے والوں کو تین سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔

روایتی طور پر مسلمان مرد تین بار طلاق کہہ کر یا ای میل کے ذریعے یا ایس ایم ایس کے ذریعے پیغام بھجوا کر بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔

مزید پڑھیے

اگرچہ انڈیا کی سپریم کورٹ نے رواں سال اگست میں اس کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے طلاق اب بھی دی جا رہی ہیں۔

قانونی مسودے میں قید کے ساتھ جرمانے اور عورت کے لیے معاوضے کا بھی ذکر ہے۔

اس مسودے کو صلاح مشورے کے لیے ریاستی حکومتوں کو بھجوا دیا گیا ہے۔

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق اس نئے قانون کے تحت تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینے پر پابندی ہو گی اور ماہانہ معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ بچوں کو سپرد کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ طریقہ کار اس لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ جب شوہر بیوی کو گھر چھوڑنے کا کہے تو اس کو قانونی سہارا حاصل ہو۔

اس مسودے کے تحت تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینا ناقابل ضمانت جرم ہو گا۔ اس مسودے کے تحت تین بار طلاق ای میل کے ذریعے یا ایس ایم ایس کے ذریعے کہنے کی بھی ممانعت ہو گی۔

انڈین میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ میں اس مسودے پر بحث دسمبر کے سیشن میں کی جائے گی۔

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ایک اکثریتی فیصلے میں مسلمانوں میں ایک ساتھ تین طلاق کے عمل کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ عدالتِ عالیہ نے حکومت کو اس سلسلے میں نیا قانون بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔

اس اہم معاملے کی سماعت چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر کی سربراہی میں پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے کی جن میں سے تین ججوں نے تین طلاقوں کو غیر آئینی قرار دیا جبکہ دو ججوں نے اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت سے کہا کہ وہ اس بارے میں قانون بنائے۔

سپریم کورٹ نے چھ ماہ کے لیے بیک وقت تین طلاقوں پر پابندی عائد کی اور حکومت سے اس بارے میں پارلیمان میں نئے قوانین وضع کرنے کو کہا تھا۔

سپریم کورٹ میں اس بارے میں کئی درخواستیں دائر کی گئی تھیں اور سوالات اٹھائے گئے تھے کہ کیا تین طلاقوں سے مسلمان خواتین کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے اس پر مئی میں سماعت مکمل کر لی تھی اور اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔