آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کی سپریم کورٹ نے مروجہ تین طلاق کو غیر آئینی قرار دے دیا
انڈیا کی سپریم کورٹ نے ایک اکثریتی فیصلے میں مسلمانوں میں ایک ساتھ تین طلاق کے عمل کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ عدالتِ عالیہ نے حکومت کو اس سلسلے میں نیا قانون بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔
اس اہم معاملے کی سماعت چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر کی سربراہی میں پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے جن میں سے تین ججوں نے تین طلاقوں کو غیر آئینی قرار دیا جبکہ دو ججوں نے اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت سے کہا کہ وہ اس بارے میں قانون بنائے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سپریم کورٹ نے چھ ماہ کے لیے بیک وقت تین طلاقوں پر پابندی عائد کی ہے اور حکومت سے اس بارے میں پارلیمان میں نئے قوانین وضع کرنے کو کہا ہے۔
سپریم کورٹ میں اس بارے میں کئی درخواستیں دائر کی گئی تھیں اور سوالات اٹھائے گئے تھے کہ کیا تین طلاقوں سے مسلمان خواتین کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے اس پر مئی میں سماعت مکمل کر لی تھی اور اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماعت کے دوران ہی عدالت نے کہا تھا کہ کچھ تنظیمیں تین طلاق کے رواج کو جائز سمجھتی ہیں لیکن شادی کو ختم کرنے یہ طریقہ درست نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں چیف جسٹس جے ایس کھیہر، جسٹس کروئین جوزف، جسٹس یو یو للت، جسٹس عبدالنذیر اور جسٹس روہنگٹن ایف ناریمن شامل تھے۔
ان میں سے جسٹس کوریئن جوزف، جسٹس یو یوللت اور جسٹس روہنگٹن ایف ناریمن نے تین طلاقوں کو غیر آئینی قرار دیا جبکہ چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس عبدالنذیر تین طلاق کے حق میں تھے۔
چیف جسٹس جے ایس کھیہر کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے سیاسی مفادات کو الگ رکھ کر متحدہ طور پر پارلیمنٹ میں اس پر فیصلہ کرنا چاہیے۔
خواتین کے مسلم پرسنل لا بورڈ کی نمائندہ وکیل چندرا راجن نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں فوری طور پر قانون بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اب اس میں کوتاہی برتی تو خواتین سڑکوں پر نکل آئیں گی۔۔
عدالت کا کہنا تھا کہ جب مذہب کے مطابق بھی تین طلاق کا چلن درست نہیں ہے تو پھر یہ جائز کیسے ہوسکتا ہے؟
سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت تین طلاق کی متاثرہ ایک خاتون سائرہ بانو اور بعض دیگر خواتین کی درخواستوں پر شروع کی تھی۔
موجودہ مرکزی حکومت نے بھی عدالت میں بیک وقت تین طلاقوں کی مخالفت کی تھی۔