انڈیا میں سیلفی کے لیے بیداری مہم 'سیلفی کِلفی'

انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں حکام ایک مہم پر کام کر رہے ہیں جس میں لوگوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ 'سیلفی جان لیوا' ہو سکتی ہے۔

بی بی سی کی گیتا پانڈے بتاتی ہیں کہ یہ اقدام سیلفی کے سلسلے میں حالیہ دنوں چار طلبہ کی موت کے بعد کیے جا رہے ہیں۔

ستمبر میں ایک اتوار کی چمکیلی صبح کالج کے تقریباً دو درجن طلبہ بندروں کے راجہ ہنومان کے مندر گنڈانجینیا کی زیارت کے لیے گئے۔ یہ مندر ریاستی دارالحکومت بنگلور سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

وارننگ: نیچے دی گئی تصویر بعض لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہے

سنہ 1932 میں راماگنڈولو گاؤں میں تعمیر ہونے والا یہ مندر مقامی لوگوں اور پاس پڑوس کے کالج کے طلبہ میں بہت مقبول ہے۔

یہ طلبہ انڈین فوج کے نیشنل کیڈٹ کور کا حصہ تھے اور انھوں نے صبح مندر کو صاف کرنے اور اس کی آرائش میں گزاری۔

جب دوپہر کو سورج چڑھا اور گرمی بڑھی تو انھوں نے مندر کے تالاب میں غوطہ لگانے کا فیصلہ کیا۔

گذشتہ ہفتے جب ہماری نمائندہ گیتا پانڈے وہاں گئیں تو مقامی دکاندار منجو ناتھ نے بتایا: 'سب کے سب بہت خوش تھے، ہنس رہے تھے، شور مچا رہے تھے، سیلفیاں لے رہے تھے۔'

لیکن دن کا خاتمہ ایک سانحے پر ہوا۔ ایک طالب علم کی تالاب میں ڈوبنے سے موت ہو گئی۔ بعد میں اس کی شناخت وشواس جی کے طور پر ہوئی۔

نوجوانوں نے جو سیلفیاں لیں ان میں سے ایک میں اس دوبتے ہوئے لڑکے کا سر واضح طور پر نظر آ رہا ہے لیکن باقی بچے دوسری طرف کیمرے میں دیکھ رہے ہیں۔

کسی کو اس کے ڈوبنے کا بروقت پتہ نہ چلا اور ایک گھنٹے بعد انھوں نے محسوس کیا وہ غائب ہے۔ پولیس اور مقامی افراد نے تین گھنٹے بعد اس کی لاش برآمد کی۔

یہ بھی پڑھیں

چند ہفتے بعد ایک دوسرے سانحے میں تین نوجوان اس وقت ایک ٹرین کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے جب وہ سیلفی لینے کی کوشش کر رہے تھے۔

انجینیئرنگ کے طالب علم شرد گوڈا نے بتایا کہ وہ واقعہ کس طرح رونما ہوا۔ انھوں نے کہا: 'میں تقریبا سوا آٹھ بجے اپنے کزن کو سکول چھوڑنے جا رہا تھا۔ اس وقت سناٹا تھا۔ جب میں واپس ہوا تو وہاں تقریبا سو لوگ یکجا تھے۔ میں ادھر یہ دیکھنے گیا کہ کیا ہوا ہے۔

'جسم کے ٹکڑے چاروں طرف بکھرے ہوئے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ ٹرین کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے (پٹریوں پر) لیٹے ہوئے تھے اور وہ ٹرین کو آتے ہوئے نہیں دیکھ سکے۔'

اسی دن ان میں سے ایک بچے کا یوم پیدائش تھا۔

ان دو واقعات نے کرناٹک میں صدمے کی لہر دوڑا دی اور ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا کہ نوجوانوں کو سیلفی اور اس کے حالات کے بارے میں آگاہ کریں کہ کہیں ان کی 'سیلفی کِلفی' یعنی جان لیوا تو نہیں ہو رہی ہے۔

کرناٹک کی وزیر سیاحت پرینکا کھرگے نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم 11 اضلاع میں سیاحت کے مقامات پر نئے سائن بورڈ لگا رہے ہیں۔ جن پر یہ پیغام ہو گا کہ سیلفی موت کا سبب بھی ہو سکتی ہے۔'

انھوں نے کہا: 'ہم چند ہفتوں میں فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام جیسے سوشل پلیٹ فارمز پر سوشل میڈیا مہم بھی شروع کر رہے ہیں اور لوگوں کو کِلفیز کے خطرات کے بارے میں آگاہ کریں گے۔'

انڈیا میں ایک ارب دس کرور موبائل فون کنکشن ہیں اور 30 کروڑ سے زیادہ افراد سمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے جنون میں مبتلا نوجوان بہترین سیلفی کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں اور اکثر بے پروائی میں غیر ضروری خطرات مول لیتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نوجوان ہوتے ہیں۔

کارنیگی میلن یونیورسٹی اور دہلی کے اندرپرستھ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن کی تحقیق کے مطابق حالیہ برسوں میں انڈیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں سیلفی سے متعلق اموات زیادہ ہوئی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2014 سے 2016 کے دوران دنیا بھر میں سیلفی کے چکر میں 127 لوگوں کی جان گئی جن میں سے 76 اموات ہندوستان میں ہوئی ہیں اور اس کا شکار ہونے والے زیادہ تر نوجوان تھے۔

لوگ سیلفی لیتے ہوئے ٹرین کی زد میں آ گئے، اونچائی سے گرے، دریا، جھیل اور تالاب میں ڈوبے یا پھر سمندر کنارے اور بند پر پانی کے ساتھ بہہ گئے۔

جون میں شمالی ہند کے شہر مراد آباد میں پولیس نے سیلفی کی لت والوں کو جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی تھی جبکہ گذشتہ سال مغربی شہر ممبئی میں ایک لڑکی کے سیلفی لیتے وقت سمندر میں ڈوب جانے کے بعد پولیس نے سیاحتی مقامات پر 'نو سیلفی زون' کا بورڈ لگانا شروع کر دیا ہے۔

لیکن وزیر سیاحت کھرگے کا کہنا ہے کہ صرف 'نو سیلفی زون' لگانے سے بات نہیں بنتی کیونکہ سانحہ کہیں بھی ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا: 'ہم اپنی مہم میں یہ بتائيں گے کہ سمارٹ فون رکھنا اچھا ہے لیکن آپ اس کا سمارٹ استعمال بھی کریں۔'