کھچڑی کے چار یار، قیمہ، پاپڑ، گھی، اچار

    • مصنف, سلمیٰ حسین
    • عہدہ, ماہر طباخ، دہلی

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں چار نومبر کو منعقدہ کھانوں کے فیسٹیول میں عام طور پر غریب کی کٹیا میں پکنے والی کھچڑی کو وہ اعزاز بخشا کہ لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔

اس موقعے پر 918 کلو گرام کی کچھڑی انڈیا گیٹ کے لان میں بنائی گئی اور 60 ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی۔ ساتھ ہی کھچڑی کا ہندوستان کی غذا کے طور پر اعلان کیا گيا۔

چاول اور انواع و اقسام کی دالوں کے میل سے بننے والی کھچڑی اصل میں غریبوں کا من و سلویٰ تھی۔ یہ ہندوستان کا قدیم پکوان ہے اور کئی جگہ اس کا ذکر ملتا ہے۔

پندرہویں صدی میں روس کے منچلے سیاح آفانا سیانکی تن نے اپنے جنوبی ایشیا کے سفر کے دوران کھچڑی کے مزے لوٹے۔ سیلوکس کے یونانی سفیر نے دال اور چاول سے بنے اس پکوان کو جنوبی ایشیا کے لوگوں کی محبوب غذا بتایا اور ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔

ان سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ کھچڑی اصل میں ہندوستان کی اولین غذا ہے۔

مغل بادشاہوں کے عہد حکومت میں شاہی باورچیوں نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا اور اسے شاہی پکوان کا درجہ دیا۔ اکبر بادشاہ کے دربار کے نورتن ابوالفضل کی تصنیف آئین اکبری میں سات قسم کی کھچڑی کا ذکر ملتا ہے جو بادشاہ کے خاصے میں شامل ہوتی تھیں۔

کھچڑی کی مناسبت سے اکبر اور بیربل کی کہانی خاصی دلچسپ ہے اور شاید آپ نے کہیں اسے سن بھی رکھا ہو۔ کھچڑی بادشاہ جہانگیر کی بھی محبوب غذا تھی اور ان کے عہد میں لکھے گئے قلمی نسخے 'الوان نعمت' میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ شاہی باورچیوں نے دال کے علاوہ گوشت، میوے اور زعفران کا اضافہ کیا اور اسے لذیذ مرغن غذا کی شکل دی۔ ایک ہنرمند باورچی نے تو چاول اور دال کی جگہ بادام اور پستے سے کھچڑی بنا دی۔

یہ بھی پڑھیں

وقت کے ساتھ کھچڑی کا رنگ روپ بدلتا گیا۔ انگریزوں نے اسے ناشتے کی غذا بنا دیا۔ جب کھچڑی نے انگریزی چولا پہنا تو وہ اچار اور چٹنی کے بجائے ابلے انڈے اور مچھلی کے ساتھ کھائی جانے لگی۔ اس کی شہرت اس قدر عام ہوئی کہ کھچڑی ہندوستان انگلستان جا پہنچي اور ملکہ وکٹوریا کے دسترخوان کی زینت بنی۔

مغلیہ سلطنت کے زوال کے ساتھ ہنرمند باورچی راجاؤں اورنوابوں کی سرپرستی حاصل کرنے ہندوستان کے مختلف حصوں میں جا بسے۔ اودھ، رام پور اور حیدرآباد کے حمکرانوں کی سرپرستی نے دسترخوان کی زینت برقرار رکھا۔ حکایت ہے کہ مرزا بہادر صادق علی خان اور امرائے اودھ کے دسترخوان پر 23 قسم کی کھچڑی 32 قسم کی چٹنیوں کے ساتھ پیش کی جاتی تھی۔

دکن میں کھچڑی کی بہت آؤ بھگت ہوئی اور مثل مشہور ہوئی۔ کھچڑی کے چار یار۔ قیمہ، پاپڑ، گھی، اچار

کھچڑی کہیں مذہبی روایات سے جڑی ہے تو کہیں تہواروں کے ساتھ۔ مکر سنکرانتی، درگا پوجا، سرسوتوی پوجا میں کھچڑی کی شمولیت لازمی امر ہے۔ اڑیسہ کے جگن ناتھ مندر میں کھچڑی زائرین کا پرشاد ہے۔ محرم کی دسویں تاریخ یعنی یوم عاشورہ کو شام غریباں میں کھچڑی سے ہی فاقہ توڑا جاتا ہے۔ یعنی یہ دکھ سکھ ہر دو کا ساتھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کھچڑی صحت مند اور بیمار دونوں کے حق میں کار آمد ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ بیماروں کے لیے کھچڑی سادہ بغیر مصالحے کے پکائی جاتی ہے کیونکہ یہ لطیف اور زود ہضم غذا ہے۔

اس کا پکانا آسان اور ایک ہنڈیا کا کھیل ہے۔ یہ ایک ہی ہانڈی میں کم محنت سے تیار ہو جاتی ہے۔ کھچڑی اب ہندوستان کی پہچان بن چکی ہے۔ عوام کے ساتھ ساتھ اسے سرکاری اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اس مہنگائی کے زمانے میں کھچڑی کا پکانا دیگر غذاؤں کے مقابلے میں کم قیمت اور صحت مند ہے۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔