ہندو شدت پسندی، اداکار کمل ہاسن مشکل میں

،تصویر کا ذریعہTWITTER @IKAMALHAASAN
جنوبی بھارت کے مشہور اداکار کمل ہاسن نے ایک تمل میگزین میں اپنے ہفتہ وار کالم میں 'ہندو دہشت گردی' کا موضوع اٹھایا ہے۔
کمل ہاسن نے لکھا ہے 'آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہندو دہشت گردی موجود نہیں ہے پہلے ہندو شدت پسند بات چیت کرتے تھے کرتے تھے اب تشدد کرتے ہیں'۔
اپنے کالم میں کمل ہاسن نے یہ بھی کہا کہ سچائی کی جیت ہوتی ہے اس بات سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ گیا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ 'سچائی کی جیت ہوا کرتی تھی لیکن اب طاقت کی جیت ہوتی ہے'۔
کمل ہاسن کے اس کالم پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔
راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے راکیش سنہا نے ٹوئٹ کیا 'کمل ہاسن کے اس بیان کا وقت بہت اہم ہے کیونکہ مرکزی حکومت پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے خلاف کارروائی کا اشارہ دے رہی ہے تب کمل ہاسن ہندو شدت پسندی کے موضوع کو بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ کمل ہاسن کو ہندو تہذیب کا ہتک کے لیے معافی مانگنی چاہئیے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے سوال کیا کیا وہ ڈی ایم کے پارٹی کے نزدیک آنے کے لیے ہندووں کی بے عزتی کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمل ہاسن سے پہلے فلمساز انوراگ کشیپ بھی ہندو دہشت گردی کا موضوع اٹھا چکے ہیں۔ راجستھان کے شہر جے پور میں فلم 'پدما وتی' کے سیٹ پر توڑ پھوڑ اور مار پیٹ کے واقعہ کے بعد انوراگ نے کہا تھا کہ ہندو دہشت گردی ایک حقیقت ہے۔







