آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹیپو سلطان رام کی انگوٹھی پہنتے تھے
ٹائیگر آف میسور کہلائے جانے والے ٹپیو سلطان کی یوم پیدائش کا جشن منانے پر ہر سال بحث ہوتی ہے اور اس سال مرکزی وزیر اننتھ کمار ہیگڑے کے بیان کے بعد یہ مزید متنازع ہوگیا ہے۔
مرکزی وزیر اننتھ کمار ہیگڑے نے ریاست کرناٹک کی جانب سے ٹیپو سلطان کی سالگرہ منانے کے فیصلے کی مذمت کی اور ٹیپو سلطان کو 'وحشی قاتل اور ریپ کرنے والا' قرار دیا ہے۔
ٹپیو سلطان کو ایک بہادر حکمران کہا جاتا ہے اور وہ ایک ایسے حکمران کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں جو سیکولر تھے، لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹپیو سلطان نے اپنی حکمرانی کے دوران 800 مندروں کو تباہ کردیا تھا۔
ٹپیو سلطان کی وہ چیزیں جو انہیں خاص بناتی ہیں:
ٹیپو کی کروڑوں کی تلوار
سنہ 2015 میں لندن میں ٹیپو سلطان کی جواہرات سے جڑی تلوار کی نیلامی کی گئی تھی۔
اس وقت اس تلوار کو 21 کروڑ (انڈین) روپے میں نیلام کیا گیا تھا۔
اس تلوار کی مٹھ پر ٹیپو کی سلطنت کا نشان چیتا بنا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رام نام والی انگوٹھی
ٹیپو سلطان کے پاس ایک خاص سونے کی انگوٹھی تھی جس پر رام لکھا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک برطانوی جرنیل نے یہ انگوٹھی ٹیپو سلطان کے انتقال کے بعد ان کی انگلی سے اتار لی تھی۔
اس انگوٹھی کی نیلامی سنہ 2014 میں کریسٹیز نیلام گھر نے کی تھی۔ کریسٹیز کی ویب سائٹ کے مطابق اس انگوٹھی کا وزن 41 گرام تھا اور یہ ایک لاکھ 45 ہزار پاؤنڈ میں نیلام ہوئی جو کہ متوقع قیمت سے 10 گنا زیادہ تھی۔
ٹپیو کے راکٹ
لندن کے معروف سائنس میوزیم میں ٹپیو سلطان کے کچھ راکٹ رکھے ہیں۔ انگریز انہیں 18 ویں صدی کے آخر میں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
یہ راکٹ دیوالی میں جلائے جانے والے راکٹ بموں سے تھوڑے ہی بڑے نظر آتے ہیں۔ سابق صدر اور ’میزائل مین‘ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے اپنی کتاب 'ونگز آف فائر' میں لکھا ہے کہ انہوں نے ناسا کے ایک سینٹر میں ٹیپو کی فوج کی راکٹ والی پینٹنگ دیکھی تھی۔
ٹیپو سلطان اور ان کے والد حیدر علی نے جنوبی بھارت میں لڑی جانے والی جنگوں میں اکثر راکٹ کا استعمال کیا۔ یہ راکٹ ان کو زیادہ کامیابی نہیں دلا سکے لیکن یہ دشمن میں کھلبلی ضرور مچا دیتے تھے۔
ٹیپو کی توپ
سنہ 2010 میں جب ٹیپو سلطان کے اسلحے کی نیلامی ہوئی تو اس میں تلوار اور بندوقوں کے ساتھ ایک نایاب توپ بھی نیلام کی گئی تھی۔
اس توپ کی لمبائی ڈھائی میٹر سے زیادہ تھی۔ اس وقت یہ توپ اپنی متوقع قیمت سے تین گنا زیادہ قیمت یعنی تین لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ میں نیلام ہوئی تھی۔