کیا چین کا عالمی قد کاٹھ بڑھ رہا ہے؟

ایسے وقت میں جب امریکہ ایشیا میں 'چین کے منفی اثرات' کے پیشِ نظر انڈیا کو ایک اہم اتحادی سمجھ رہا ہے، وہیں چین سمجھتا ہے کہ اسے دنیا میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کی کانفرنس میں چینی صدر شی جی پِنگ کی تقریر پر دنیا کے کئی ملکوں نظر تھی۔ تین گھنٹے طویل تقریر میں انھوں نے اپنی کامیابیاں گنوائیں اور مستقبل کے لیے اپنا لائحۂ عمل پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'چین اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہمیں دنیا کے سینٹر سٹیج پر اپنی جگہ بنانی ہے۔‘

اس کانفرنس کا مقصد پارٹی کے اگلے صدر کا انتخاب اور پالیسیوں کا اعلان کرنا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ شی جن پنگ ہی پارٹی کے سربراہ رہیں گے۔

یہ کانفرنس پر پانچ سال بعد منعقد کی جاتی ہے، اور یہ اگلے منگل تک جاری رہے گی۔ کانفرنس کے بعد پارٹی میں نئے اراکان شامل ہو سکتےہیں۔ یہ ارکان چین کے اہم فیصلے کرنے والی پولٹ بیورو میں شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی ملک کا نظام چلاتی ہے۔

شی جی پنگ اپنی تقریر میں بہت پر اعتماد نظر آئے۔

انھوں نے اپنے پانچ سالوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ناممکن اہداف حاصل کیے ہیں اور دنیا میں چین کا کردار بڑھ گیا ہے۔

چینی صدر نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ کسی غیر ملکی سیاسی نظام کی نقل نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا، 'کمیونسٹ پارٹی ہر اس چیز کی مخالفت کرے گی جو چین کی قیادت سے انکار کرے۔'

چی جن پنگ نے اپنی تقریر میں 2050 تک چین کی سوشلسٹ نظام کو جدید بنانے کے منصوبے کی تفصیل بتائی جس میں ماحولیات اور معیشت سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔ ان کے ذریعے چین کو خوشحال اور خوبصورت بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

انھوں نے سنکیانگ، تبت اور ہانگ کانگ میں چلنے والی علیحدگی پسند تحریکوں کو تنبیہ کی اور تائیوان کو چین کا حصہ قرار دیا۔

شی جن پنگ نے کہا: 'ہم دنیا کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کریں گے، ہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے قواعد کو آسان بنائیں گے۔'

بیجنگ میں بی بی سی کے نمائندے کی ایک رپورٹ کے مطابق شی جن پنگ نے پارٹی میں نظم و ضبط میں اضافے کا ذکر کیا اس کے علاوہ انھوں نے بدعنوانی کے الزام میں تقریباً دس لاکھ افسران کو سزا دیے جانے کا بھی ذکر کیا.

اس کانفرنس کی وجہ سے بیجنگ میں اس وقت تہوار جیسا سماں ہے. بیجنگ کی سڑکیں بینروں سے اٹی پڑی ہیں، اس ہفتے ریلوے سٹیشنوں پر طویل قطاریں اور سیکورٹی کے پیشِ نظر شہر کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، ریستوراں، جِم اور نائٹ کلب بند رکھے گئے ہیں، جن کی وجہ سے کانفرنس کا اثر کاروبار پر بھی پڑا ہے۔

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پارٹی اپنے آئین کو دوبارہ لکھ سکتی ہے، تاکہ صدر شی کی کامیابیوں اور سیاسی نظریات کو اس میں شامل کیا جا سکے اور ان کا قد ملک کے سابق بڑے رہنماؤں کے برابر آ سکے۔