آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین کی ترقی کے کیا معانی، دیکھیں ان چارٹس میں؟
شی جن پنگ کے اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال کے دوران چین امیر تر اور مزید طاقتور ہوا ہے۔ لیکن اس ترقی کا ایک عام چینی خاندان کے لیے کیا مطلب ہے؟
اب جب کہ چین کے فیصلہ ساز افراد آئندہ پانچ برس کے لیے ملک کی راہ متعین کرنے جا رہے ہیں اور ملک میں راہنماؤں کی ایک نئی پود سامنے آ رہی ہے ہم چینی حکام کی جانب سے فراہم کردہ اور مختلف جائزوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ چین میں عائلی زندگی اور معاشرہ کیسے بدل رہا ہے۔
2015 میں چینی حکومت نے اپنی ایک بچے کی پالیسی کا خاتمہ کیا جس کا مقصد آبادی پر کنٹرول تھا لیکن اب بھی اسے آبادی میں صنفی عدم تناسب کا سامنا ہے۔
اب اگرچہ چینی زیادہ بچے پیدا کر سکتے ہیں اور بڑے خاندان رکھ سکتے ہیں، اگر شادی اور طلاق کی شرح پر نظر ڈالی جائے تو یہاں وہی صورتحال نظر آتی ہے جس کا سامنا بقیہ ترقی یافتہ دنیا کو ہے یعنی شادی کی شرح میں کمی آ رہی ہے اور طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔
تاہم شنگھائی کی نیویارک یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر یویئن لی کہتے ہیں کہ چین میں اب بھی طلاق کی شرح امریکہ اور مغربی یورپ کے ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 'ہمسایہ ممالک اور علاقوں کے مقابلے میں بھی چین میں لوگوں کی بڑی شرح آج بھی شادیاں کرتی ہے۔ اس لیے یہ خیال کہ چین میں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ رہا ہے اعداد و شمار کے مطابق درست نہیں۔'
اگرچہ چین نے 2015 میں اپنی ایک بچہ پالیسی ختم کی ہے لیکن اس کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک جاری رہیں گے۔
یہاں تک کہ چین میں 30 سال سے زیادہ عمر کے غیرشادی شدہ افراد کے لیے تو ایک خاص نام 'شینگنن' بھی ہے یعنی کہ 'نظرانداز کردہ افراد'۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
2015 میں 40 سال سے زیادہ عمر کی ایک چینی کاروباری شخصیت نے رشتے کروانے والی ایک کمپنی پر اس وقت مقدمہ کیا تھا جب 70 لاکھ یوان (دس لاکھ ڈالر) لینے کے باوجود وہ اس کے لیے اہلیہ تلاش کرنے میں ناکام رہی۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبۂ اقتصادیات کے لوئس کوجس کا کہنا ہے کہ ’چین کی ایک بچہ پالیسی نے اس آبادیاتی منتقلی کو بڑھاوا دیا۔‘
’شرح پیدائش میں کمی اور معمر افراد میں اضافے کی وجہ سے افرادی قوت پر اور اقتصادی ترقی پر دباؤ پڑ رہا ہے۔‘
ان کے بقول ’اگرچہ جنوری 2016 میں یہ ایک بچہ پالیسی بدل کر دو بچہ پالیسی کر دی گئی لیکن اگلی دو دہائی میں صرف افرادی قوت میں فرق نظر آیے گا۔‘
اعلیٰ معیارِ زندگی جنس سے متعلق روایتی خیالات پر اثر انداز ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بگڑے ہوئے صنفی توزان پر مثبت اثر پڑے گا۔
سنگاپور کی نشینل یونیورسٹی میں خاندان و آبادی پر تحقیق کرنے والے شعبے سے تعلق رکھنے والے مو زینگ کا کہنا ہے کہ ’صنفی عدم توزان بدل رہا ہے۔‘
’یہ سب کچھ بچے پیدا کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے ہے۔ تعلیم اور ملازمتوں میں عورتوں کی ترقی اور معاشرتی تحفظ کی وجہ سے رویے بدل رہے ہیں۔‘
لیکن اس وقت موجود صنفی عدم توازن مردوں کے لیے شریکِ حیات کی تلاش کو مشکل نہیں کرتا۔
چین میں اپنے گھر کی ملکیت رکھنے والے افراد کی شرح امریکہ اور یورپی ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔
ایچ ایس بی سی کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار چین کے شہری علاقوں کے ہیں۔ جہاں والدین اپنے بیٹوں کو ہر وہ چیز فراہم کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کسی عورت کو شادی کی پیشکش کرنے میں مدد ملے۔
چین میں ایس او اے ایس انسٹیٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جےیُو لیو کا کہنا تھا کہ ’یہ روایت ہے کہ مرد گھر مہیا کرتا ہے۔ اور محبت کی کئی داستانیں شادی تک پہنچنے سے پہلے کی ختم ہو جاتی ہیں کیونکہ مرد گھر فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔‘
اگر ایک مرتبہ دلکشی، قسمت یا جائیداد کام کر جائے تو چین کے کنوارے کھونٹے سے بندھ جاتے ہیں۔
چین میں خاندانی زندگی کیسی ہوتی ہے؟
چین میں شہری اور دیہاتی زندگی کی عمومی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی میں خوراک پر آنے والی لاگت میں کمی ہوئی ہے اور یہ رقم صحت، لباس اور آمد ورفت پر خرچ کی گئی۔ موبائل فون میں ہونے والے اضافے سے اس کی مزید تشریح ہوتی ہے۔
سمارٹ فون صرف رابطہ کاری کے لیے محض ایک خرچ نہیں بلکہ ’وی چیٹ‘ ایپ کی طرح کی چیزوں کے روز مرّہ زندگی میں شمولیت کی وجہ سے اب فون کے بغیر زندگی کا تصور میں ممکن نظر نہیں آتا۔
بیجنگ میں مقیم اے بی آیی کے ماہرِ ٹیکنالوجی ڈنکن کلارک وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’وی چیٹ نامی اس ایپ کو زندگی کے لیے ہر لحاظ سے معاون ایپ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا۔‘
ان کے بقول لوگ اسے اس کی سہولتوں کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں جن میں یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی، دکانوں میں کیش رقم کے بغیر ادائیگی، ٹیکسی اور بائیک کرائے پر حاصل کرنا، رقوم کی منتقلی اور یقیناً رابطہ کاری شامل ہے۔
زیادہ آمدن کی وجہ سے والدین اب بچوں کی تعلیم پر زیادہ رقوم خرچ کرتے ہیں اور حالیہ برسوں میں تعلیم کی غرض سے بیرونِ ملک جانے والے طلبہ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس سے بڑھ کر یہ کے وہ واپس بھی آ رہے ہیں۔
تجزیہ کار فرم آئی ایچ ایس مارکٹ کے چیف ماہرِ اقتصادیات راجیو بسواس کا کہنا ہے کہ ’بیرونِ ملک جانے والے ان طلبا کی ایک بڑی تعداد واپس چین آ رہی ہے جن میں سے 2016 میں ہی 433000 واپس لوٹے۔‘
ان کے بقول ’بیرونِ ملک سے ڈگریاں حاصل کرنے اور دوسرے معاشروں میں رہائش کا تجربہ رکھنے والے ان نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث چین میں کاروباری افراد اور سیاسی رہنماؤں کی آئندہ نسل کے پاس بین الاقوامی سوچ اور دوسری تہذیبوں سے آشنائی ہوگی۔ اور ایسے میں جب چین آئندہ دہائی میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے کا ارادہ رکھتا ہے یہ سب نہایت اہم ہے۔ ‘
اور یورپی یا امریکی ادارے کی ڈگری سے جہاں آپ کے پاس اچھی ملازمت کے حصول کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے وہیں آپ کے لیے صحیح شریکِ حیات کو منانے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔