آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جوہری معاہدے کے خلاف اقدام کا منہ توڑ جواب دیں گے: جواد ظریف
ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے جوہری معاہدے کے خلاف کوئی اقدام کیا تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق جواد ظریف نے بدھ کو یہ بات ملک کی پارلیمنٹ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف لیڈران کی جانب سے اس حوالے سے سخت بیانات جاری کیے گئے ہیں جو اس بات کا مظہر ہے کہ ملک میں مختلف سیاسی سوچ رکھنے والے افراد میں اس حوالے سے یکجہتی پائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے ایران کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کرنے جا رہے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ پالیسی میں سختی لانا چاہتے ہیں۔
ایران کی پارلیمنٹ کے ایک رکن شہباز حسن پور نے ملک کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کو بتایا کہ بند کمرے میں منعقد ہونے والے اس اجلاس وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اس بات پر ضرور دیا کہ ’اگر امریکیوں نے جوہری معاہدے کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھایا تو اسلامی جمہوریہ ایران منہ توڑ جواب دے گا۔‘
روئٹرز کے مطابق ایک اور رکنِ پارلیمنٹ بہروز نعمتی کے بقول اجلاس میں وزیرِ خارجہ نے ان ممکنہ اقدامات کے بارے میں بھی بات کی جو صدر ٹرمپ اور امریکی کانگرس ایران کے خلاف لے سکتے ہیں اور اس کے جواب میں ایران کیا اقدام کرے گا اس بارے میں بھی بات ہوئی۔
تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کی جانب سے کیا ردِعمل آئے گا۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ رواں ہفتے صدر ٹرمپ سنہ 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے اس جوہری معاہدے کی توثیق نہیں کریں گے جس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامند ہوگیا تھا اور جواب میں اس پر سے معاشی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس معاہدے کی توثیق نہ کرنے سے اگرچہ امریکہ خودبخود اس معاہدے سے الگ نہیں ہو جائے گا لیکن یہ معاملہ کانگریس کے سامنے آئے گا جو 60 روز میں یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا ایران پر دوبارہ پابندیاں لگائی جائیں یا نہیں۔
اس کے ساتھ یہ بھی کہا خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دینے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ نے پہلے ہی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک مختلف افراد اور اداروں کو نا پسندیدہ فہرست شامل رکھا ہے لیکن اب پاسدارانِ انقلاب کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جانے کا قوی امکان ہے۔