یمن انکوائری: سعودی عرب کی معاشی رشتوں پر اثرات مرتب ہونے کی دھمکی

سعودی عرب نے یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے متعلق بین الاقوامی جانچ کی ایک مجوزہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کے خلاف اقتصادی اقدام کی دھمکی دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے وہ خط دیکھا ہے جس میں سعودی عرب نے ایسا کہا ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے یمن میں ہونے والے مظالم کے خلاف آزادانہ جانچ کے لیے انسانی حقوق کونسل میں لابی بنانے کی بارہا کوشش کی ہے۔ تاہم ابھی تک سعودی عرب کسی ایسی بین الاقوامی جانچ کو نہ ہونے دینے میں کامیاب رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سعودی خط دو مغربی ممالک کو بھی بھیجا گیا ہے۔ ان دو ممالک کے جنیوا میں سفارتکاروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کو سعودی عرب کی جانب سے خط ملا ہے۔

تاہم جب جنیوا میں سعودی سفیر عبد العزیز اواسل کو یہ خط دکھایا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس بارے میں ان کو علم نہیں ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی والے اتحاد نے مارچ سنہ 2015 سے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھا ہوا ہے۔ سعودی عرب پر شہری ٹھکانوں، بازاروں اور ہسپتالوں پر بمباری کے الزامات ہیں۔

اقوام متحدہ میں حقوق انسانی کونسل کے اراکین نیدرلینڈ/کینیڈا کے تیار کردہ ڈرافٹ پر ووٹ دیں گے جس میں اقوام متحدہ کی حمایت میں ایک بین الاقوامی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے جسے 'کمیشن آف انکوائری' کا نام دیا گيا ہے۔

اے ایف پی نے سعودی عرب کا جو خط دیکھا ہے اس میں لکھا ہے کہ 'ہیومن رائٹس کونسل میں نیدرلینڈ/کینیڈا کی قرارداد کے اپنائے جانے سے سعودی عرب کے ساتھ باہمی سیاسی اور معاشی رشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔'

اس میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نیدرلینڈ/کینیڈا کی قرارداد کو قبول نہیں کرے گا اور وہ یمن کی داخلی جانچ کی حمایت کرے گا جس کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ قابل اعتبار نہیں ہوگی۔

ہیومن رائٹس واچ کے جینوا ڈائرکٹر نے بھی اس خط کو دیکھا ہے جو کہ مختلف ممالک کو بھیجے گئے ہیں۔ انھوں نے ان دھمکیوں کو 'شرمناک' قرار دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈائرکٹرجان فشر نے کہا: 'سعودی عرب کی جانب سے دوسرے ممالک کو بین الاقوامی جانچ کی حمایت نہ کرنے کے لیے معاشی اور سیاسی دھمکیاں دینا اشتعال انگیز ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: '(عرب) اتحاد نے ہسپتالوں، بازاروں، گھروں، جنازوں پر بمباری کی ہے اور اب بین الاقوامی برادری کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ یہ کہے کہ اب بہت ہو چکا۔'

یمن میں جاری جنگ میں ابھی تک ساڑھے آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک تقریبا پچاس ہزار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ پونے دو کروڑ یمنیوں کو سخت غذائی قلت کا سامنا ہے۔