یمن کی بےگھر خواتین: تصویری کہانیاں

یمن میں حوثی باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بےگھر ہو گئے ہیں۔

اس کا خاص نشانہ لڑکیاں اور خواتین بنی ہیں جو بےگھر ہونے والے تقریباً 22 لاکھ لوگوں کا نصف بنتی ہیں۔ ہم ان میں سے کچھ خواتین کی کہانیاں پیش کر رہے ہیں جو صنعا کے قریب ضروان کیمپ میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

دادی ماں عالیہ نے خوراک، پانی اور صحت کی سہولیات کی کمی کی شکایت کی۔ ان کا داماد روزانہ چار ڈالر کماتا ہے جس سے تین نسلوں پر مشتمل خاندان پلتا ہے۔ یہ لوگ حدیبیہ صوبے سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں۔

مونا اور سکینہ باغیوں کے علاقے شمالی سعدہ سے باپ کے انتقال کے بعد پچھلے سال اپنی ماں اور تین بہن بھائیوں کے ساتھ آئے ہیں۔ اس خانہ جنگی کا عام شہریوں کی زندگیوں پر بھیانک اثر پڑا ہے، اور ہر روز 75 کے قریب افراد مارے جا رہے ہیں یا زخمی ہو رہے ہیں۔

صفیہ کی زندگی شورش شروع ہوتے ہی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ وہ اپنے خاوند اور پانچ بچوں کے ہمراہ سعدہ سے بھاگ کر اس کیمپ میں آ گئیں۔ اس کیمپ پر بھی حملہ ہوا جس میں ان کا ایک بچہ مارا گیا۔

سعدہ ہی سے آنے والی دلال اور رضا اپنے کھلونوں سے چمٹی رہتی ہیں۔ ان کی عمریں چار اور تین سال ہیں اور انھوں نے اپنی زندگی کا نصف حصہ بےگھری کی حالت میں گزارا ہے۔ ان کے والد ایک مقامی نشہ آور بوٹی خط فروخت کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔

سات سالہ اناس کا دل تو اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے کو کرتا ہے، لیکن باپ کے انتقال کے بعد اسے اپنی بیوہ ماں کا ہاتھ بٹانا پڑتا ہے۔ یمن کے دس فیصد خاندانوں کی سربراہ عورتیں ہیں، جب کہ تین فیصد خاندان ایسے ہیں جنھیں 18 سال سے کم عمر کی لڑکیاں چلا رہی ہیں۔

50 سالہ بیوہ مسعودہ اور 47 سالہ تقیہ عمران صوبے سے ہیں۔ وہ ضروان کیمپ میں ایک خیمے کے سائے میں وقت گزارنا پسند کرتی ہیں۔ یمن کے 22 لاکھ بےگھر افراد میں سے 19 فیصد بےقاعدہ، عارضی کیمپیوں میں رہتے ہیں۔

آٹھ سالہ مریم اور سات سالہ سکینہ کہتی ہیں کہ ’ہم سکول جانا چاہتی ہیں۔‘ یمن میں خانہ جنگی کی وجہ سے 20 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔

50 سالہ بیوہ اور آٹھ بچوں کی ماں زہرا کہتی ہیں: ’مجھے اپنے بچوں کو ہر روز خوراک کی تلاش میں بھیجنا پڑتا ہے۔‘

حدیبیہ کی سال سالہ خلود ضروان کیمپ کے کباڑ کے درمیان۔ انھیں بھی کیمپ کے باہر سڑک پر جا کر بھیک مانگنا پڑتی ہے۔

مسعودہ عمران سے یہاں آئی ہیں جہاں ان کا گھر تباہ ہو گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں سرد، بھوکی اور بےیار و مددگار ہوں۔‘

12 سالہ نجمہ اپنے دو بھائیوں کی نگرانی کر رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے عہدے دار جیمی میک گولڈرک کہتے ہیں: ’یہاں انسانیت کام نہیں کرتی۔ دنیا نے یمن کے حالات سے آنکھیں بند کر لی ہیں۔‘

تصاویر: محمد حمود، تحریر: شابیہ منتو (ترجمان یو این ایچ سی آر)