آؤ عید منائيں

    • مصنف, سلمیٰ حسین
    • عہدہ, ماہر طباخ، دہلی

عید ملن کی بیلا ہے --- گاؤں نگر میں میلا ہے

بچے خوش ہیں بوڑھا شاد --- موسم بھی البیلا ہے

موسم کے البیلے ہونے کی ضمانت تو نہیں دی جا سکتی لیکن شادمانی و مسرت کی ذمہ داری ضرور ہے۔

عید الفطر اسلامی دنیا کا اہم ترین تہوار ہے اور دنیا کے ہر ملک میں جہاں پیروان اسلام سکونت پزیر ہیں بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے۔

ہر ملک میں اس کا الگ نام اور الگ ذائقے ہیں لیکن اس کی رنگینی اور گہما گہمی میں کوئی فرق نہیں۔

جہاں رمضان المبارک کے 20 روزے ختم ہوئے گھرگھر عید کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ گھروں کی آرائش، پکوان کے اہتمام کی فہرست، نئے کپڑوں کی خریداری، سلام و پیام کے سلسلے، غرض ایک ہنگامہ بپا رہتا ہے۔

بازاروں کی رونق کا کیا کہنا! عید کا موقع ہے بازار رات بھر کھلے رہتے ہیں اور لوگ افطار کے بعد خریداری کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ ابھی خریداری پوری بھی نہیں ہوئی کہ ہلال عید کی آمد کا شور اٹھنے لگتا ہے اور عید مبارک کی صدائیں چاروں طرف سے سنائی دینے لگتی ہیں۔

مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کا نزول رمضان میں ہی ہوا اور کہا جاتا ہے کہ شب قدر یعنی لیلۃ القدر بھی اسی ماہ میں واقع ہوتی ہے جسے برکت کی رات بھی کہتے ہیں۔

عید خوشیوں کے ساتھ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کر تی ہے جسے فراموش کرنا عید کی خوشیوں کو کم کرنا ہوگا۔ عید کی نماز سے قبل صدقہ فطر کی ادائيگی ضروری ہے اور اس کے ساتھ ہی صاحب حیثیت افراد عام طور پر رمضان کے مہینے مین ہی زکواۃ نکالتے ہیں اور خیر خیرات کا دارودورہ رہتا ہے۔ سفید پوش رشتہ داروں اور غربا کی مدد کا یہ انوکھا طریقہ اسلام میں پایا جاتا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ایسی تقسیم بے مثال ہے۔

عصر حاضر نے عید کی رنگینیوں کو قدرے پھیکا کر دیا ہے۔ نہ عید کارڈ سے سجی دکانیں نظر آتی ہیں اور نہ ڈاک خانے کے چکر لگتے ہیں۔ خاکی وردی میں ملبوس ڈاکیہ اب قصے کہانیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

عید کارڈ پر چھپے پیارے پیارے پیغامات کسی کے انتظار کے بغیر ای میل پر دستیاب ہیں۔

ہلال عید کے دیدار کے ساتھ ہی بازاروں کی چہل پہل دگنی ہو جاتی ہے۔ قطار در قطار سویوں کی دکانوں پر گاہک ٹوٹا پڑتا ہے اور ساتھ ہی لگی خشک میوں کی دکانیں بادام، پستہ، ناریل اور چھوہاروں کا ڈھیر لگائے گاہکوں کو اپنی طرف بلاتی ہیں۔

جواں سال لڑکیاں چوڑیوں کی دکانوں پر کھڑی چوڑی والے سے مناسب دام کی بحث کر رہی ہیں تو مہندی والا نازک ہاتھوں پر گل بوٹے بنانے میں مصروف ہے۔ خریداری میں مرد بھی پیچھے نہیں۔ عید کی نماز کا کرتا، پاجاماہ، ٹوپی، رومال سبھی کچھ تو خریدنا ہے۔

خاتون خانہ باورچی خانے میں سوئیوں کی تیاری میں لگی ہیں۔ کہیں شیر کا دودھ ابل رہا ہے تو کہیں بادام پستے تراشے جا رہے ہیں۔ ایک گوشے میں کباب کا مصالحہ تیار ہو رہا ہے، تو کہیں بریانی کے گوشت، مرغ مسلم میوؤں سے بھر کر باندھا جا رہا ہے اور کہیں صبح کے ناشتے کی تیاری۔

یہ عید عام طور پر سو‏ئیوں کی عید کہلاتی ہے اور سوئیاں بھی کئی اقسام کی اور ہر ایک ذائقہ الگ اور جان لیوا۔

غرض عید کیا آئی گھر سے باہر اور گھر کے اندر ہر کوئی مصروف لیکن تھکن کا احساس نہیں کیونکہ کل عید ہے۔

رنگین بٹوئے لیے بزرگوں کو سلام کرکے بچے عیدی بٹور رہے ہیں اور اہل خانہ ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی مبارکباد دے رہے ہیں۔کہیں شرارتیں ہیں اور کہیں شوخیاں اور کیوں نہ ہو کہ موقعہ بھی ہے دستور بھی۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔