آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
unseenkashmir#: کشمیری کس سے آزادی چاہتے ہیں؟
انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے کشیدہ ماحول میں پلنے بڑھنے والی لڑکیوں اور ملک کے باقی حصوں میں رہنے والی لڑکیوں کی زندگی کتنی یکساں اور کتنی مختلف ہو سکتی ہے؟
یہی سمجھنے کے لیے وادی کشمیر میں رہنے والی دعا اور دہلی میں مقیم سومیا نے ایک دوسرے کو خط لکھے۔ سومیا اور دعا کی ایک دوسرے سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی زندگی کو گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران خطوط کے ذریعے ہی جانا۔ آپ آئندہ چند دنوں تک ان کے خطوط یہاں پڑھ سکیں گے۔
پیاری دعا
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیسی ہو تم اور تمہارا خاندان کیسا ہے؟
اپنے گذشتہ خط میں تم نے مجھ سے سوال پوچھا تھا کی ہمارا سکول ہمیں پکنک پر کہاں لے جاتا ہے۔
اس سال ہمارا سکول ہمیں مانیسر لے گیا تھا جو کہ دہلی سے باہر ایک گاؤں جیسا علاقہ ہے۔
مانیسر میں ہم نے ٹریکٹر کی سواری کی اور گاؤں کی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کی۔
جب میں نے تم سے اپنے گذشتہ خط میں یہ پوچھا تھا کہ کیا تم ہندوستان کے کسی دوسرے شہر میں پڑھنا چاہوگي تو تمہارا جواب سن کر مجھے تعجب نہیں ہوا کیونکہ جس طرح کا برتاؤ کشمیریوں کے ساتھ ہوتا ہے، اس سے میں بھی قدرے واقف ہوں۔
کاش ہم بچوں کو اس طرح کے برتاؤ سے ہمارا معاشرہ بچا پاتا۔
جس طرح سے غیر انسانی سلوک ہمارے معاشرے میں چاروں طرف ہو رہا ہے وہ صرف کشمیریوں کے لیے نہیں بلکہ ہر دوسرے یا نامعلوم علاقے کے لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
ریگنگ بھی اسی بات کی مظہر ہے۔
میں نے تمہاری بھیجی ہوئی سونمرگ کی تصاویر دیکھیں۔ انھیں دیکھ کر میرا دل کشمیر آنے کے لیے مچل اٹھا۔
جب میں نے اخبار میں یہ پڑھا ہے کہ ایک شخص کو کشمیر میں 'انسانی ڈھال' کی طرح استعمال کیا گیا تو مجھے بہت دکھ ہوا۔
اس طرح کے واقعات غیر انسانی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ کیا ہم لوگ اپنے معاشرے سے یہ سب ختم نہیں کر سکتے؟ اور ایسا کر دیں کہ دنیا کے کسی کونے میں آنے جانے پر کوئی پابندی نہ ہو۔
کبھی کبھی اخبار سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیری آزادی چاہتے ہیں۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ وہ کس سے آزادی چاہتے ہیں اور کشمیر کی ترقی ابھی تک کیوں نہیں ہو پائی ہے؟
تمہارے خط سے یہ بھی پتہ چلا کہ کشمیر میں سکول چھ سات ماہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔
ایسے میں میرا خیال ہے کہ بچوں کے لئے وقت گزارنا بہت مشکل ہوتا ہوگا اور وہاں جس قسم کا خوف کا ماحول بنا ہے، بچوں کی مکمل ترقی ہو ہی نہیں پائے گی۔
میں اس بارے میں تمہاری رائے جاننا چاہوں گی۔ کیا تم اس ماحول سے بور نہیں ہو گئی ہو؟
آخر میں اس امید کے ساتھ اپنا خط ختم کروں گی کہ کبھی تو ایسا وقت آئے گا جب کوئی کہیں بھی جاکر رہ سکے گا اور کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تمام آپس میں محبت سے رہ سکیں گے۔
تمہارے جواب کی منتظر
تمہاری دوست
سومیا
(خطوط کی یہ سیریز بی بی سی ہندی کی نمائندہ دیویا آریہ نے تیار کی ہے)