unseenkashmir#: 'کشمیری ہوں، انڈيا میں پڑھنے سے ڈرتی ہوں'

انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے کشیدہ ماحول میں پلنے بڑھنے والی لڑکیوں اور ملک کے باقی حصوں میں رہنے والی لڑکیوں کی زندگی کتنی یکساں اور کتنی مختلف ہو سکتی ہے؟

یہی سمجھنے کے لیے وادی کشمیر میں رہنے والی دعا اور دہلی میں مقیم سومیا نے ایک دوسرے کو خط لکھے۔ سومیا اور دعا کی ایک دوسرے سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی زندگی کو گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران خطوط کے ذریعے ہی جانا۔ آپ آئندہ چند دنوں تک ان کے خطوط یہاں پڑھ سکیں گے۔

پیاری سومیا،

یہ جان کر اچھا لگا کہ آپ اور آپ کے خاندان بخیر و عافیت سے ہیں۔ میں اور میرا خاندان بھی یہاں اچھے ہیں۔ جس طرح سے آپ نے سمرتھ کے بارے میں بتایا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ اوين جتنی ہی شیطانیاں کرتا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہمیں سکول سے پکنک کے لیے 'سونمرگ' لے گئے تھے۔ کشمیری میں 'سون' مطلب 'سونا' اور 'مرگ' مطلب 'وادی' ہوتا ہے تو سونمرگ کا مطلب 'سونے کی وادی' ہوا۔

اسے ایسا اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی اونچی جگہ پر ہے جہاں سے پہاڑوں کی برفیلی چوٹیاں سال بھر دکھائی دیتی ہیں۔

اور جب سورج کی شعاعیں اس برف پر پڑتی ہیں تو وہ سونے جیسی لگتی ہیں۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ تمہارا سکول تمہیں پکنک کے لیے کہاں لے جاتا ہے؟

اپنے خط میں آپ نے مجھ سے آرمی کے بارے میں بہت سے سوال کیے ہیں۔

آرمی کے بارے میں میں پہلے یہ صاف کرنا چاہوں گی کہ وہ آرمی کے لوگ نہیں بلکہ سیکورٹی اور پولیس کے لوگ تھے۔ ان میں فرق ہے۔

یہ ایک راز ہے کہ انھوں نے لڑکیوں پر حملہ کیوں کیا ہوگا۔ یہ کوئی نہیں جانتا، کوئی نہیں بس ان کے علاوہ۔

اور تمہارے دوسرے سوال کے متعلق کہ میں کسی اور بھارتی شہر میں نہیں رہنا چاہوں گی۔

میری آگے کی تعلیم کے لیے میں یا تو کشمیر میں رہنا پسند کروں گی یا بیرون ملک جانا چاہوں گی کیونکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں ایک طالب علم کے طور پر کسی اور بھارتی شہر میں رہنے سے ڈرتی ہوں۔

ایسی کئی اطلاعات ہیں، تم نے تو سنی ہی ہوں گی کہ بہت سے کشمیری طالب علم جس میں لڑکیاں بھی شامل ہیں، انھیں بڑی يونیورسٹيز میں کئی طرح کی ریگنگ کا شکار بنایا گیا اور بہت سے کشمیری طلبا کو راتوں رات کالج سے باہر نکال دیا گیا بس اس لیے کیونکہ وہ کشمیری تھے۔

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر کے لوگ اپنی 'کشمیریت' یعنی مہمان نوازی، سادہ پن اور اپنے سچے دل کے لیے مشہور ہیں۔

اگر تم کسی دوسرے ملک جاؤ اور وہاں کے لوگوں کو بتاؤ کہ آپ کشمیری ہو تو وہ آپ کے ساتھ اپنے خاندان کے رکن کی طرح یا کسی پرانے دوست کی طرح برتاؤ کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم اپنے مہمانوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔

میں تمہیں اور تمہارے خاندان کو اپنا مہمان بنانے کی دعوت دیتی ہوں تاکہ تم بھی کشمیر دیکھ پاو۔

تم نے مجھے ایک 16 سال کے لڑکے کے بارے میں بتایا تھا جس نے 'کاش بک' نام کی ویب سائٹ بنائی ہے۔ میں نے تو اسے ابھی تک استعمال نہیں کیا نہ ہی میں کسی کو جانتی ہوں جنھوں نے کیا ہو۔ لیکن یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم کشمیریوں میں بہت ٹیلنٹ ہے۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ حکام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم اس دنیا میں سب سے بہترین کام کر سکتے ہیں لیکن کوئی اچھا 'پلیٹ فارم' کے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ ہی لوگ اوپر تک پہنچ سکتے ہیں۔

اور رہی بات انٹرنیٹ پر پابندی کی، اس کا جواب تو صرف حکومت ہی دے سکتی ہے کی انھوں نے ہمارا 'رائٹ ٹو انفارمیشن' ہم سے کیوں چھین لیا ہے۔'

سچ کہوں تو ہم لوگوں کو اس کی عادت ہو گئی ہے۔ ان حالات کو ہمارے باپ دادا نے بھی دیکھا ہے اور ہم بھی اسی سے گزر رہے ہیں۔

تمہارے اگلے خط کے انتظار میں، تمہاری سہیلی۔۔

دعا۔

میں نے سونمرگ کے فوٹوگراف اٹیچ کیے ہیں، تاکہ آپ خود اس کی خوبصورتی دیکھ سکو۔

(خطوط کی یہ سیریز بی بی سی ہندی کی نمائندہ دیویا آریہ نے تیار کی ہے)