روہتک: دس سالہ بچی کو اسقاطِ حمل کی اجازت دینے کا فیصلہ ڈاکٹر کریں گے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے شمالی شہر روہتک میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی دس سالہ بچی کو اسقاطِ حمل کی اجازت دینے کا فیصلہ کرنے کے لیے ڈاکٹروں کے پینل کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔
روہتک پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس بچی کو اس کے سوتیلے والد نے کئی مرتبہ ریپ کیا اور وہ چار ماہ میں ماں بننے والی ہے۔
مقامی پولیس افسر پنکج نین کے مطابق بچی کی والدہ کی رپورٹ پر پولیس نے اس کے شوہر کو حراست میں لے لیا ہے۔
انڈیا کے قانون کے تحت 20 ہفتے سے زیادہ وقت گزر جانے کے بعد اسقاطِ حمل کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب ڈاکٹر یہ سرٹیفیکیٹ دے کہ حاملہ خاتون کی جان کو خطرہ ہے۔
یہ سخت قانون انڈیا میں صنفی تناسب میں کمی لانے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔
انڈیا میں شادی شدہ جوڑوں کی جانب سے بیٹے کے خواہش کے نتیجے میں لاکھوں لڑکیاں کو پیدا ہونے سے قبل ہی ہلاک کیا جاتا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ چند ماہ کے دوران انڈیا کی سپریم کورٹ میں ایسی کئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں ریپ کا شکار ہونے والی خواتین 20 ہفتے سے زیادہ عرصے کا حمل ضائع کرنا چاہتی ہیں اور عدالت نے ایسے تمام معاملات ڈاکٹروں کے سپرد کیے ہیں۔
اس تازہ ترین معاملے میں ریاست ہریانہ کے شہر روہتک میں پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر اس بچی کے خاندان کی درخواست پر اس کا معائنہ کریں گے۔
اس بچی کے حاملہ ہونے کی نشاندہی گذشتہ ہفتے ہی ہوئی تھی جب اس کی ماں اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق بچی کی ماں گھریلو ملازمہ ہے اور وہ اکثر اسے گھر پر اکیلا چھوڑ جاتی تھی۔ بچی نے اپنی والدہ کو بتایا کہ اس کے سوتیلے باپ نے کئی بار اس سے جنسی زیادتی کی اور پھر اسے خاموش رہنے کو کہا تھا۔









