آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر میں پتھراؤ کرنے والے اپنے وطن کے لیے لڑ رہے ہیں‘: فاروق عبداللہ
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں پتھراؤ کرنے والے نوجوان اپنے وطن کے لیے لڑ رہے ہیں۔
ان کے اس بیان پر حمکراں جماعت بی جے پی اور حزب اختلاف کانگریس دونوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سری نگر سے پارلیمنٹ کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’کشمیری نوجوان یہ طے کریں کہ وہ سیاحت چاہتے ہیں یا دہشت گردی‘، انھوں نے سنگ بازوں کا دفاع کیا۔
سری نگر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبد اللہ نے کہا: ’جو پتھر پھینک رہے ہیں انھیں سیاحت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ اپنے وطن کے لیے پتھر پھینک رہے ہیں۔ اسے سمجھنا ضروری ہے۔‘
دوسری جانب بی جے پی نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کے بیان پر سخت تنقید کی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ ڈاکٹر عبد اللہ جیسے تجربہ کار رہنما سے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
انھوں نے کہا: 'سنگ باز ملک کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ان کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر فارق عبد اللہ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کا بھی خیر مقدم کیا۔
انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی انڈیا کے اس موقف کی حمایت کرتی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ باہمی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی تیسرے فریق کو شامل نہیں کیا جاسکتا، ’لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اگر مسائل حل نہیں ہوتے تو امریکہ کو ثالثی کرنی چاہیے اور اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔‘
حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے فاروق عبد اللہ کے بیان پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک باہمی مسئلہ ہے۔
انڈین میڈیا میں بھی اس پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے یہ بیانات الیکشن کے پیش نظر دیے ہیں۔