آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر کی 'آزادی کے ترانے' پر تنازع
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے مظالم اور کشمیر کی تحریک آزادی سے متعلق 'ترانہ آزادی کشمیر' کو حال ہی میں پاکستان میں ریلیز کیا گیا تھا جس پر تنازع شروع ہو گيا۔
بی بی سی مانیٹرنگ کی تولکا بھٹناگر نے اس ترانے کے ماخذ اور اثرات کا جائزہ لیا ہے۔
انڈیا کے زیر انظام کشمیر میں چند ماہ قبل ایک نوجوان عسکریت پسند لیڈر برہان وانی کو سکیورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کی وجہ سے پورے کمشیر میں انڈیا کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے جو اب تک جاری ہیں۔
مظاہرین کے خلاف بھارتی فورسز کی کارروائی میں اب تک تقریباً سو افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ترانہ برہان وانی کو ہی وقف کیا گيا ہے۔
اس ترانے میں کشمیر پر پاکستان کے دعوے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اس کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں۔۔۔۔
کشمیر جو پاکستان بھی ہے،
یہ روح بھی ہے، یہ جان بھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ جنت ارضی، ہے وادی، اس کا نصیب ہے، آزادی
اب اس کا نصیب ہے آزادی۔۔۔
اس کے پروڈیوسر عمر احسن نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم نئی نسل کے لوگوں تک خاص طور پہنچنا چاہتے تھے جو نئی موسیقی یا روایتی چیزوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس سٹائل کے میوزک میں فوک دھنوں کا استعمال ہوتا ہے جس سے اس انداز سے درد اور تکلیف کا تاثر پیدا ہوتا جو نوجوانوں کو بھی پسند آتا ہے۔ اس میں میلوڈی،رومانس اور پاپ سب کچھ ہے۔'
عمر احسن کا کہنا تھا کہ اس ترانے کے اپ لوڈ کرنے کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی 20000 سے زیادہ لوگوں نے اسے دیکھا اور تقریباً ایک ہزار لوگوں نے اسے شئیر کیا۔
اس ترانے میں علی عظمت، عمیر جسوال اور علیشا جیسے پاکستانی گلوکاروں نے حصہ لیا ہے۔ لیکن کئی دیگر گلوکاروں نے انڈیا میں اپنے مداحوں کی تعداد کھونے کے خوف سے اس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔
گلوکار عمیر جسوال کا کہنا ہے جب انھوں نے اس ترانے کے بارے میں انکشاف کیا کہ اس وقت سے اب تک انڈیا کے تقریباً ان کے 10000 فیس بک مداح ان سے دور ہو گئے ہیں۔
لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس ترانے میں انڈیا مخالف کچھ بھی نہیں ہے۔ انھوں نے پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا: 'کمشیر میں انسانی حقوق ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اب وقت آ پہنچا ہے کہ کشمیر پر دوبارہ توجہ مرکوز کی جائے۔'
عمر احسن کا کہنا ہے کہ بڑے غور و فکر کے بعد اس ترانے کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا گيا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں امید تھی کہ انڈیا کی سول سوسائٹی یا موسیقی سے وابستہ لوگ کشمیر کی صورت حال پر آواز اٹھائیں گے یا اس پر کچھ کام کریں گے لیکن ایسا کوئی بھی کام نہیں ہوا۔
انڈیا میں ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس ترانے کے متعلق زیادہ خبریں شائع نہیں ہوئی ہیں۔ بعض انگریزي اخبارات نے اس کی خبر ضرور دی لیکن بیشتر نے اسے نظر انداز کر دیا اور اس پر بحث و مباحثہ تو دور کی بات ہے۔
خود حکومت کی جانب اس پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔