آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’نائیجیریا کے طالبعلموں پر حملہ نسل پرستی تھی‘
افریقن ممالک کے سفیروں نے ایک مشترکہ بیان میں گذشتہ ماہ دلی کے نواحی علاقوں میں نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے نفرت پر مبنی اور نسل پرستانہ اقدام تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈین حکام نے اس حملے کی صحیح طرح مذمت نہیں کی اور نہ ہی انھیں روکنے کے لیے واضح اقدامات کیے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ دلی کے نواحی علاقے گریٹر نوئڈا میں نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے پانچ طلبہ پر ایک گروہ نے حملہ کیا تھا جب کہ ایک طالبعلم پر ایک جھتے نے شاپنگ سینٹر میں تشدد کیا تھا۔
اس تشدد کا آغاز تب ہوا جب علاقے میں ایک مقامی لڑکے کی موت حد سے زیادہ منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہوئی۔
لڑکے کے والدین نے ان طالبعلموں پر الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو منشیات انھوں نے دی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سواراج نے واقعے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔
تاہم افریقین نیشنز کے سفیروں نے اسے ناکافی قرار دیا ہے اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے انڈیا کی حکومت سے قومی اور مقامی طور پر اعلیٰ سیاسی سطح پر اس واقعے کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایک طالب علم پر شاپنگ مال میں ہونے والے حملے کی ویڈیو وہاں موجود دوسرے خریداروں نے اپنے موبائل فونز میں ریکارڈ کر لی تھی اور اسے سوشل میڈیا پر بڑہے پیمانے پر پھیلایا گیا۔
متاثرین نے انڈین رپورٹرز کو بتایا کہ انھیں سلاخوں، اینٹوں اور چاقوؤں سے مارا گیا تاہم کسی نے بھی نہ تو ان کی مدد کی اور نہ ہی پولیس کو بلایا۔
بہت سے انڈین شہریوں نے سوشل میڈیا پر اس واقعے پر شرمندگی کا اظہار کیا تاہم انڈیا میں افریقی شہریوں کے ساتھ بد سلوکی کے متعدد واقعات حالیہ سالوں دیکھنے کو ملے ہیں۔
گذشتہ برس کانگو کے ایک شہری کو اس وقت تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا جب اس کی ایک رکشے والے سے بحث ہوئی تھی۔
اسی واقعے سے تین ماہ پہلے تنزانیہ کے ایک طالب علم کو بنگلور میں ایک جھتے نے نشانہ بنایا اور نیم برہنہ کر دیا تھا۔
سنہ 2013 میں بھی گوا میں رہنے والے ایک نائیجیرین کو تشدد کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔