انڈیا میں جہیز کے بڑھتے ہوئے مطالبات کی وجہ ’بدصورتی‘

انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا میں ایک نصابی کتاب پر اس وقت ہنگامہ شروع ہو گیا جب اس میں جہیز کے بڑھتے ہوئے مطالبات کی وجہ ’بدصورتی‘ کو لکھا گیا۔

اس نصابی کتاب میں لکھا ہے: ’اگر کوئی لڑکی بدصورت ہے یا معذور ہے تو اس کے لیے شادی کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی کسی لڑکی سے شادی کرنے کے لیے لڑکے اور اس کے خاندان والے زیادہ جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

ایک وزیر نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان جملوں کو کتاب سے ہٹا دیا جائے گا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اس کتاب کے الفاظ بڑے پیمانے پر شیئر کیے جا رہے ہیں۔

جہیز دینا اور لینا جنوبی ایشیا میں صدیوں پرانا رواج ہے، جس میں دلہن کے والدین تحائف کی صورت میں پیسے، کپڑے اور زیورات دلہے کے گھر والوں کو دیتے ہیں۔

انڈیا میں 1961 کے بعد سے جہیز لینا اور دینا غیر قانونی ہے لیکن پھر بھی اس پر بڑے زور و شور سے عمل کیا جاتا ہے۔

مقررہ وقت اور رقم کے حوالے سے تنازعات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات دلہے کے گھر والوں کو ان کی خواہش کے مطابق چیزیں نہ ملنے پر دلہن کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

2015 میں خواتین و بچوں کی بہبود کی وزارت نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ جہیز کے تنازع پر گذشتہ تین برسوں میں ہر سال 80 ہزار سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ انڈیا میں نصابی کتابوں کو تنقید کا سامنا ہے۔

گذشتہ سال ریاست چھتیس گڑھ میں ایک استاد نے 15 سالہ بچوں کی نصابی کتاب کے حوالے سے شکایت کی تھی، جس میں لکھا گیا تھا کہ آزادی کے بعد سے بے روزگاری میں اضافے کی وجہ خواتین کا مختلف شعبوں میں کام کرنا ہے۔