آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشل میڈیا انڈین نیم فوجی دستوں کا نیا ہتھیار
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا میں کبھی جدید ترین تو کبھی فرسودہ اسلحے سے لیس فوجی اب سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
لیکن کسی دشمن کے خلاف نہیں۔ اچانک فیس بک اور یوٹیوب پر انھیں ان کی آواز مل گئی ہے جو عام طور پر سنی نہیں جاتی اور اسے وہ اپنے حالات زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
گذشتہ تقریباً ایک ہفتے میں نیم فوجی دستوں اور فوج کے جوانوں نے کئی ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔ یہ سلسلہ کشمیر میں تعینات بارڈر سکیورٹی فورسز کے ایک جوان تیج بہادر یادو نے شروع کیا تھا جن کا الزام تھا کہ حکومت جو راشن جاری کرتی ہے اسے سینیئر افسران بیچ کھاتے ہیں اور کبھی کبھی جوانوں کو بھوکا بھی سونا پڑتا ہے۔
سینئر افسران نے انہیں شرابی بتایا، ان کے کیریئر ریکارڈ پر سوال اٹھائے لیکن یہ ویڈیو وائرل ہوئیں تو حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بی ایس ایف سے رپورٹ طلب کی۔ اب پی ایم او نے بھی وزارت داخلہ سے رپورٹ مانگی ہے۔
اس کے بعد سی آر پی ایف اور سیما سرکشا بل کے دو جوانوں نے اپنی ویڈیوز میں کہا کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں لیکن انہیں وہ سہولیات نہیں دی جاتیں جو فوج کے جوانوں کو ملتی ہیں حالانکہ ان کی ذمہ داریوں کی نوعیت یکساں ہے۔
فوج کے ایک جوان کا کہنا ہے کہ جوانوں کو 'سہایک' یا اردلی کے طور پر افسران کے ساتھ بھیجا جاتا ہے اور پھر انہیں گھر میں ایک نوکر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں ان سے جوتوں پر پالش تک کروائی جاتی ہے۔
حکومت کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ وہ ملک میں قوم پرستی کو فروغ دے رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ملک کے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانا اور اس دوران سب کے لیے کھڑا ہونا لازمی کر دیا گیا ہے، اور ایسے ماحول میں حکومت کے لیے یہ الزامات سیاسی مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں کہ ملک کے لیے قربانیاں دینے والے فوجیوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشل میڈیا کی طاقت کا حکومت کو بھی اندازہ ہے، خود وزیر اعظم نریندر مودی اس کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔ جوانوں کی شکایات کو فیس بک اور ٹوئٹر پر کافی حمایت ملی ہے۔
ایک شخص آدتیہ نہرا نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ 'میں خراب کھانے کے خلاف آواز اٹھانے والے جوان کی حمایت کرتا ہوں۔۔۔ میں آپ کی بہادری کو سلام کرتا ہوں اور قصوروار افراد کو سزا ملنی چاہیے۔'
مینک جین لکھتے ہیں کہ 'جو ہماری حفاظت کرتے ہیں انہیں اچھا کھانا ملنا چاہیے۔'
ٹویٹر اور فیس بک پر زیادہ تر پیغامات اسی نوعیت کے ہیں لیکن نیم فوجی دستوں کے تقریباً نو لاکھ جوانوں کی نوکری کی شرائط میں ترمیم کرنا حکومت کے لیے آسان نہیں ہے۔
سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے درگا پرساد نے جوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا کے استعمال پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'سوشل میڈیا کے ذریعہ ان معاملات کو اٹھانا صحیح نہں ہے۔۔۔۔ یہ تو ایسے ہوا کہ آپ کی کوئی مانگ پوری نہ ہو تو آپ سوشل میڈیا پر چلے جائیں، شکایتوں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال غلط ہے کیونکہ اس کام کے لیے جوانوں کو کئی اور فورم دستیاب ہیں۔'
لیکن انڈیا کے کئی نامور صحافیوں نے ٹوئٹر پر ہی جوانوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ شیکھر گپتا کا کہنا ہے کہ 'ہم ان شکایتوں کو نظر انداز کرسکتے ہیں کیونکہ یہ آسان راستہ ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہمارے نیم فوجی دستے، خاص طور پر سی آر پی ایف اور بی ایس ایف گہرے بحران کا شکار ہیں۔'
برکھا دت نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ’سی آر پی ایف کے صوبیدار رنبیر سنگھ نے مجھ سے کہا کہ وزیر اعظم ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتے ہیں تو پھر جوانوں کو فون رکھنے پر سزا کیوں دی جاتی ہے۔‘