آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: سرحد پر تعینات فوجی کی بے بسی کی ویڈیو وائرل
انڈیا میں بارڈر سکیورٹی فورسز، بی ایس ایف سے تعلق رکھنے والے ایک جوان تیج بہادر یادو نے اپنے ویڈیو کلپز میں سینیئر فوجی حکام پر کئی طرح کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
انھوں نے یہ ویڈیو کلپز اپنے فیس بک کے صفحے پر پوسٹ کی ہیں جو وائرل ہوچکی ہیں۔
انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس ویڈیو کو دیکھنے کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا: 'میں نے ہوم سیکریٹری سے کہا ہے کہ وہ بی ایس ایف سے فورک رٹورٹ طلب کریں اور اس بابت مناسب اقدام اٹھائيں۔'
ادھر بی ایس ایف نے بھی ان کی ویڈیوز کا نوٹس لے لیا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بارڈر سکیورٹی فورسز کے ترجمان شبھید بھاردواج نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ ویڈیوز ان کے نوٹس میں ہیں اور اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
تیج بہادر یادو نے فیس بک پر پوسٹ کی جانے والی اپنے ویڈیو کلپ میں سرحد کے محافاظوں کو ملنے والے کھانے کی کوالٹی کے متعلق سوال اٹھایا ہے۔
انھوں نے الزام لگایا ہے کہ جوانوں کے لیے سامان کی کمی نہیں ہے لیکن ان کے حصے کا سامان فوجی افسر بازار میں فروخت کر رہے ہیں اور انھیں مناسب کھانا تک نہیں ملتا ہے۔
اس حوالے سے جو ویڈیوز فیس بک پر پوسٹ کی گئی ہیں وہ وائرل ہو گئی ہیں۔ ان میں سے ایک ویڈیو کلپ کو ایک لاکھ سے زیادہ بار شیئر کیا جا چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور ویڈیو میں جوان نے جلے ہوئے پراٹھے دکھائے ہیں اور سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایسا کھانا کھا کر جوان سرحد پر ڈیوٹی کر سکتے ہیں؟
بی ایس ایف کے سرکاری اکاؤنٹ کی جانب کی جانے والی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ 'بی ایس ایف جوانوں کی دیکھ بھال کے متعلق سے بہت حساس ہے۔ بعض معاملات میں ممکن ہے کہ لاپرواہی ہوئی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس کی جانچ کی جائے گی۔ اعلی افسران موقع پر پہنچ چکے ہیں۔'
تیج بہادر اپنے ایک ویڈیو میں کہتے ہیں کہ آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں ہم سرحد کی حفاظت کے لیے کتنے مشکل حالات میں، دیکھنے میں یہ برف بہت خوبصورت لگتی ہے، تاہم اس برفیلے موسم میں گیارہ سے بارہ گھنٹوں تک کھڑے رہ کر سرحد پر ڈیوٹی کرنا آسان نہیں ہے۔ ‘
انھوں نے کہا جس طرح کا کھانا جوانوں کو دیا جاتا ہے وہ کھا کر اس طرح کی ڈیوٹی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔