اگر بینک نہیں جانا تو پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ کا اور کیا ہو سکتا ہے؟

انڈیا میں حکومت نے کالے دھن کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کر دیے ہیں اور اب ان نوٹوں کو استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان نوٹوں کو بینکوں کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن آپ ذمہ داری شہری بننے پر تیار نہیں ہوتے تو ان نوٹوں کے استعمال کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لوگوں چند تجاویز دی ہیں۔

ٹوائلٹ پیپر

اب چونکہ ان کو کرنسی نوٹوں کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے تو انھیں ٹوائلٹ پیپر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مشک جیسی خوشبو والے ان پرانے نوٹوں کو اپنے جسم پر استعمال کر سکتے ہیں، ان کی خوشبو رہ جائے۔ تو آپ ان نوٹوں کو اپنی ذمہ داری پر جسم کے کسی بھی حصے پر استعمال کر سکتے ہیں۔

کھانے کی ہلکی پھلکی اشیا

پلاسٹک کو چھوڑیں اب شہر میں اس کا متبادل دستیاب ہے۔

اب ان نوٹوں کو مونگ پھلی سے لے کر سموسے تک کو رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹوئٹر کے ایک صارف کے مطابق یہ پانچ سو اور ایک ہزار روپے کا مستقبل ہے اور اس کے ساتھ انھوں نے یہ تصویر بھی پوسٹ کی ہے جسے سوشل میڈیا پر بہت شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ اس میں سے کھانے کے بعد اس سے اپنی ہاتھ پر لگی چکناہٹ کو بھی صاف کیا جا سکتا ہے۔

'مناپلی' میں استعمال ہونے والی رقم

مشہور کھیل مناپلی کو بچے مناپلی کرنسی سے کھیلتے ہیں تو اب اس کھیل کو اصل کیش سے کھیلیں۔ اس کھیل میں جب آپ گو کو پاس کریں تو پانچ سو روپے حاصل کریں اوراس دن کا آپ نے ہمیشہ سے خواب دیکھا ہو گا۔

اگر آپ اوپر دی گئی تجاویز سے اتفاق نہیں کرتے تو اب بھی اپنے کرنسی نوٹوں کو پھینکیں مت۔

ٹوئٹر پر ایک صارف نے کرنسی نوٹوں کو جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال کرنے کی رائے دیتے ہوئے اس کے ساتھ لکھا ہے کہ غذائیت: بے قیمت

لیکن اس کے ساتھ واضح اور حقیقی مشورہ یہ ہے کہ جن کے پاس پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ ہیں وہ انھیں بینکوں سے تبدیل کرا سکتے ہیں اور یہ سہولت دس نومبر سے تیس دسمبر تک دستیاب رہے گی۔

اس کے علاوہ جمعہ گیارہ نومبر تک ہسپتال ان نوٹوں کو قبول کریں گے جبکہ اس تاریخ تک یہ ایئرپورٹس اور ریلوے سٹیشن پر صرف ٹکٹ خریدنے کے لیے بھی یہ قابل استعمال ہوں گے۔