BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 May, 2008, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منظور وٹو پیپلز پارٹی میں شامل

 منظور احمد وٹو
منظور وٹو کا پیپلز پارٹی میں شامل ہونا ان کی دانشمندی ہے:زرداری
مسلم لیگ قاف کے سابق رہنما اور سابق وزیراعلٰی پنجاب منظور احمد وٹو نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

اس بات کا اعلان انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے اعزاز میں منعقدہ ایک استقبالیے میں کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے منشور کا اولین نکتہ پاکستان کی بقاء ہے اور یہ وقت مذاکرات کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ طاقتیں جو پہلے جمہوری قوتوں سے بات نہیں کرتی تھیں اب ہم سے بات کرتی ہیں اور ہم ایک مثبت پاکستان کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی میں شامل خواتین سیاستدانوں نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ کسی طرح مردوں سے اس میدان میں پیچھے نہیں ہیں۔’بے نظیر بھٹو کو بھی سیاست کا بوجھ کمسنی میں اٹھانا پڑ گیا کیونکہ وقت کے جابر نے ان کے لیے زمین تنگ کر دی تھی‘۔

منظور وٹو کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے اور ہمیں دوستوں کی ضرورت ہے ایسے میں منظور وٹو کا پیپلز پارٹی میں شامل ہونا ان کی دانشمندی ہے کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کون سی پارٹی ہے جو پاکستان کو بچا سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ جمہوریت کو آگے بڑھانے میں صرف صرف پیپلز پارٹی ہی کا حصہ ہے بلکہ اس میں دوسری بہت سی جماعتوں کی جدوجہد بھی شامل ہے ۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے بلوچستان میں اپنے بلوچ بھائیوں سے معافی مانگی حالانکہ بلوچوں کی جانب سے ایسا کرنے کو نہیں کہا گیا تھا۔’نہ ہی کوئی پختون وفد صوبے کا نام پختونخواہ رکھنے کا مطالبہ لے کر ہمارے پاس آیا لیکن ہم نے ایسا تہتر کا آئین اس کی اصل شکل میں لانے اور ذوالفقار علی بھٹو کے قوم سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ہم بین الاقوامی اداروں سے بات کرنے کے قابل ہیں اور چاروں صوبوں کے عوام ایک زبان ہو کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوامِ متحدہ سے کرائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو جمہوریت کے کسی نئے تمغوں کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی اس کے سینے پر سجے ہوئے ہیں اور جمہوریت کے لیے یہ اپنا کردار نبھاتی رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد