اثاثے منتقل کرنے پر حکم امتناعی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان کی سرکاری ٹیلی فون کمپنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ کے اثاثے متحدہ عرب امارات کی کمپنی ’ایتیصلات‘ کو منتقل کرنے پر حکم امتناعی جاری کردیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں ایمپلائیز یونین کے صدر حاجی خان بھٹی نے پی ٹی سی ایل کی نجکاری کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ ایمپلائیز یونین کے وکیل مجیب پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ ایتیصلات گروپ نے پی ٹی سی ایل کے صرف پچیس فیصد حصص خرید لیے ہیں جبکہ پچہتر فیصد حصص حکومتِ پاکستان کے پاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچیس فیصد حصص میں کمپنی کو صرف انتظامیہ میں شیئر دیا جاسکتا ہے، اثاثے منتقل نہیں کیئے جاسکتے ہیں۔ مجیب پیرزادہ کے مطابق پاکستان کے قانون کے مطابق ریاست کی ملکیت کسی غیرملکی کمپنی کو فروخت نہیں کی جاسکتی، غیرملکی کمپنی صرف سرمایہ کاری کرسکتی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس گلزار پر مشتمل بینچ نے حکم جاری کیا کہ جب تک پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے خلاف دائر پٹیشن کا فیصلہ نہیں ہوجاتا اثاثے ایتیصلات کو منتقل نہ کئے جائیں۔ عدالت نے پندرہ مئی کو نجکاری کمیشن، پی ٹی سی ایل اور ایتیصلات انتظامیہ کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ پی ٹی سی ایل ایمپلائیز یونین کے صدر حاجی خان بھٹی نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کو بہتر ہزار ملازمین کی اخلاقی فتح قرار دیا ، ان کا کہنا تھا کہ اربوں روپوں کی مالیت کے اس ادارے کو انتہائی کم قیمت میں فروخت کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سن دوہزار پانچ میں متحدہ عرب امارات کی کمپنی ایتیصلات نے پی ٹی سی ایل کے چھبیس فیصد حصص دو عشاریہ چھ ارب ڈالر کی کامیاب بولی دیکر حاصل کیئے تھے۔ اس فیصلے کے خلاف ملازمین نے پورے ملک میں احتجاج کیا تھا۔ | اسی بارے میں موبی لنک: حرجانے کا حکم06.06.2003 | صفحۂ اول نجی کمپنیوں کی اجازت14.07.2003 | صفحۂ اول پی ٹی سی ایل ملازمین کی ہڑتال28 May, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||