BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 January, 2006, 23:01 GMT 04:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ولی خان: جو سوچتے وہ کہتے

ولی خان
انہیں پاکستان میں ایک ناکام لیکن ایسے سیاستداں کے طور پر یاد رکھا جائےگا جووہی کہتا تھا جو سوچتا تھا اور ایسے لوگوں کی پاکستان میں ہمیشہ کمی رہی ہے۔
خان عبدالولی خان کے انتقال سے پاکستان ایک اور ایسے سیاستداں سے محروم ہوگیا جو سیکولرزم ، پارلیمانی جہوریت اور ایک فلاحی مملکت میں پختہ یقین رکھتا تھا۔

ان کے نزدیک پاکستان کو درپیش مسائل کی واحد وجہ ملک میں ان تین بنیادی سیاسی اصولوں کا فقدان تھا اور ملک کو درپیش تمام مسائل کا واحد حل بھی ان کے نزدیک یہی تھا کہ یہاں ایک جمہوری ، سیکولر اور فلاحی مملکت قائم کی جائے۔

ولی خان کی سیاسی تربیت میں ان کے والد خان عبدالغفار خان مرحوم کے سیاسی نظریات کو بڑا دخل تھا۔ وہ اپنی جوانی میں خدائی خدمتگار تحریک میں شامل ہوئے جس کے بانی خود ان کے والد خان عبدالغفار خان تھے۔

اس تحریک کوعدم تشدد اور عوام کی خدمت کے فلسفے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا جس میں مہاتما گاندھی بھی یقین رکھتے تھے اور اسی مناسبت سے خان عبدالغفار خان فرنٹیئر کے گاندھی کے نام سے مشہور ہوئے۔

خان عبدالغفار خان اور دوسرے قوم پرست مسلم رہنماؤں کی طرح خان عبدالولی خان بھی ہندوستان کی تقسیم کے مخالف تھے۔ وہ اسے انگریزوں کی سازش کا حصہ سمجھتے تھے جس کامقصد ہندوستان کی تحریک آزدای کو کمزور کرنا اور اپنے تسلط کو طول دینا تھا۔

تاہم جب ہندوستان تقسیم ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آگیا تو خان عبدالولی خان نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو تسلیم کرلیا لیکن اپنے سیاسی نظریات پر قائم رہے۔ یعنی یہ کہ اس ملک کی ترقی اور بقا کا انحصار اس پر ہے کہ یہاں جمہوریت اور سیکولرزم کی بنیاد پر ایک فلاحی ریاست قائم کی جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بننے کے باوجودصوبہ سرحد میں خدائی خدمتگار تحریک ایک سیاسی قوت کے طور پر موجود تھی ۔ کہتے ہیں کہ جناح صاحب بھی آزادی کے بعد خان عبالغفار خان سے مفاہت کے خواہاں تھے لیکن بعض رہنماؤں نے جن کا سیاسی وجود اس مفاہمت سے خطرے میں پڑسکتا تھا دونوں رہنماؤں کو قریب نہیں آنے دیا اور محلاتی سازشوں کے نتیجے میں اس تنظیم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس سے وایبستہ رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا، ان میں خان عبدالولی خان بھی شامل تھے۔

ادھر اس عرصے میں پاکستان مسلم لیگ میں بھی دھڑے بندیاں اور ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ شروع ہوگیا یہاں تک کہ مولانا بھاشانی کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی کی شکل میں ایک ایسی جماعت وجود میں آگئی جو پارلیمانی جمہوریت ، سیکولرزم اور سوشلزم میں یقین رکھتی تھی اس کے بانی اراکین میں خان عبدالولی خان بھی شامل تھے۔

اس پارٹی کے فعال کارکنوں کی اکثریت اشتراکی نظریات کے حامل عناصر پر مشتمل تھی جس کو پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے قبول تو کرلیا تھا لیکن اس سے کبھی اس کی بنی نہیں۔

اس عرصے میں صوبہ سرحد کی سیاست سے خان عبدالغفار خان عملی طور پر ریٹائر ہوگئے تھے اور ان کی جگہ ولی خان نے لے لی تھی۔

1964کے صدارتی انتخاب میں متحدہ حزب اختلاف نے فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں اپنا امیداوار نامزد کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس نامزدگی کو خان عبدالغفار خان اور ولی خان کی زبردست حمایت حاصل تھی۔ ان کا خیال تھا کے اگر کسی اور کو امیدوار بنایا گیا تو حکومت ملک دشمنی اور غیر ملکی ایجنٹ جیسے الزمات لگا کر انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن ان انتخابات کے نتیجے میں خود نیشنل عوامی پارٹی میں اختلافات اتنے شدید ہوگئے کہ انتخابات کے کچھ ہی دنوں بعد پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

ایک کی قیادت مولانا بھاشانی کے حصے میں آئی اور دوسرے کی خان عبدالولی خان کے حصے میں۔

عام خیال ہے کہ پارٹی کی تقسیم کی بنیادی وجہ عالمی کمیونسٹ تحریک میں چین اورسوویٹ یونین کے اختلافات تھے۔

بہرحال وجہ جو بھی ہو ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کو عرف عام میں روس نواز اور مولانا بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی کو چین نوازکہا جاتا تھا۔تاہم ولی خان ہمیشہ پارٹی کے اشتراکی کارکنوں کو شک کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کے اثر رسوخ سے کچھ بہت زیادہ خوش نہیں تھے۔

1970 کے انتخابات کے نتیجے میں جب عوامی لیگ کو بھاری اکثریت حاصل ہوگئی تو جناب ولی خان مغربی پاکستان کے ان رہنماؤں میں پیش پیش تھے جو یہ چاہتے تھے کہ جمہوری اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے عوامی لیگ کو حکومت بنانے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے اس سلسلے میں حکومت اور عوامی لیگ کے رہنما جناب شیخ مجیب الرحمٰن کے درمیان غلط فہمیاں دور کرانے کی کوششیں بھی کیں۔اور اس میں ناکامی سے وہ بہت مایوس بھی تھے۔

لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جب پاکستان میں حکومت بنی تو انہوں نے پیپلز پارٹی سے تعاون کا ایک سمجھوتا کرلیا۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نیپ اور جمیعت العلماء اسلام کی مخلوط حکومت قائم ہوگئی۔

نیپ کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک میں جمہوری قدروں کو فروغ دے گی تاہم یہ مفاہمت بہت زیادہ نہیں چلی اور 1973 میں بلوچستان کی حکومت کو برطرف کردیا گیا اور گورنر راج قائم کردیا گیا۔

صوبہ سرحد کی حکومت احتجاجاً مستعفی ہوگئی۔ فروری 1975 میں ولی خان سمیت نیپ کی قیادت کو گرفتار کرلیا گیا اور پارٹی کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا۔اس کے بعد 1976 میں ان پر اور ان کے ساتھیوں پر مقدمہ قائم کیا گیا جس کی سماعت کے لئےایک خصوصی ٹرائبونل قائم کیا گیا۔

اگر چہ بھٹو حکومت کے زوال کے بعد ولی خان اور ان کے ساتھیوں کو رہا کردیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا گیا لیکن اس مقدمے نے ولی خان کو پاکستان کی سیاست سے کچھ اتنا بد دل کردیا کہ وہ سیاست سے بڑی حد تک دست بردار ہوگئے اور ان کی بیگم، بیگم نسیم ولی نے ان کی جگہ لے لی۔

انہیں اس بات کا بڑا دکھ تھا کہ پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے انہیں گرفتار کیا اور ضیاالحق کے مارشل لاء کے تحت انہیں رہائی ملی۔ انہوں نے بےنظیر کی پہلی حکومت سے بھی تعاون کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے بھی انہیں بڑی مایوسی ہوئی۔

یہاں تک کہ جب بے نظیر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تو ولی خان کی جماعت نے، جس کا نام اب نیشنل عوامی پارٹی کے بجائے عوامی نیشنل پارٹی ہوگیا تھا، اس کی حمایت کی۔

اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ولی خان ایک بے باک اور نڈر سیاست داں اور بہت اچھے پارلیمنٹیرین تھے لیکن ان کا المیہ یہ تھا کہ وہ اپنے اوپر کانگریس کی چھاپ اور پاکستان کی مخالفت کے الزام کو مٹانے میں ناکام رہے اور اس کی بنیاد پر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ( فوجی اور سول) دونوں نے انہیں پنپنے نہیں دیا۔

وہ صوبہ سرحد کی علاقائی سیاست میں بھی اتنے ڈوبے ہوئے تھے کہ قومی سطح پر اپنے آپ کو منوانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ انہیں پاکستان میں ایک ناکام لیکن ایسے سیاستداں کے طور پر یاد رکھا جائےگا جووہی کہتا تھا جو سوچتا تھا اور ایسے لوگوں کی پاکستان میں ہمیشہ کمی رہی ہے۔

اسی بارے میں
پاکستان کا ملامتی سیاستدان
26 January, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد