کیبل آپریٹرز: ہڑتال کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے رویے اور غیر ملکی چینلز کی نشریات پر پابندی کے خلاف کیبل آپریٹرز نے صوبہ سندھ میں ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا) نے پاکستان بھر کے کیبل آپریٹروں پر جملہ حقوق کی خلاف وزی کرنے کی وجہ سے بیس کے قریب غیر ملکی ٹی وی چینلوں کی نشریات دکھانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ کراچی میں جمعرات کی شام پاکستان کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خالد شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جن پینتیس چینلوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان میں اکثر اگست دو ہزار تین سے پاکستان میں چل رہے تھے اس عرصے میں پیمرا کو یہ خیال کیوں نہیں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب ان پر کیوں پابندی لگائی گئی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ چینل عوام میں بے حد مقبول ہیں اور ان کو دکھانے کے لیے کیبل آپریٹرز کو لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑے ہیں۔ جب عوام کو ان کے پسند کے چینلز دیکھنے کو نہیں ملیں تو وہ کیبل آپریٹرز کو فیس ادا نہیں کرتے۔ واضح رہے کہ پیمرا کے ترجمان محمد سلیم کا کہنا ہے جب تک کیبل آپریٹر کے پاس ’لینڈنگ رائٹس‘ نہیں ہوں گے وہ غیر ملکی چینلوں کی نشریات نہیں دکھا سکیں گے۔ کیبل آپریٹرز کا کہنا ہے کہ پیمرا نے بتایا ہے کہ کچھ چینلز سے لینڈنگ رائٹس کے لیے درخواستیں موصول ہوئی ہیں جلد ہی ان کو اجازت دے دی جائیگی مگر بائیس دن گزرجانے کے بعد بھی کسی کو کوئی اجازت نہیں دی گئی جبکہ ماضی میں اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ چند گھنٹوں میں چینلز کو لینڈنگ رائٹس دیئے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پیمرا نے ایم ایم مووی چینل، اسٹار نیٹ ورک، بی فار یو، سپر سپورٹس اور زی نیٹ ورک کے تمام چینل اور چینل ون، ریئل ٹی وی اور فیشن ٹی وی سمیت پینتیس کے قریب چینلز کی نشریات پر پابندی عائد کی ہے۔ کیبل آپریٹرز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اب تو پاکستان سے تعلق رکھنے والے چینلز پر بھارتی سیریل اور دیگر پروگرام چلائے جا رہے ہیں اسی طرح فیشن ٹی وی پاکستان شروع کیا گیا ہے کیا ان میں عریانی نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیمرا عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیبل آپریٹڑز سے فوری مذاکرات کرے بصورت دیگر پیر کے روز سے سندھ میں کیبل آپریٹرز ہڑتال کردینگے ۔ | اسی بارے میں کیبل چینل بند24.08.2003 | صفحۂ اول کیبل چینل بند24 August, 2003 | صفحۂ اول میڈیا اتھارٹی ترمیمی بل پیش08 October, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||