ملبے سے مزید افراد کو نکال لیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں چاروں طرف بکھری ہوئی موت کے درمیان زندگی کی تلاش تیسرے دن بھی جاری رہی اور مظفر آباد میں ملبے میں دبے ہوئے گیارہ طلبا اور اسلام آباد میں تین لوگوں کو زندہ نکال لیا گیا۔ مگر ابھی تک بہت بڑی تعداد میں لوگ ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔ جو بچ گئے ہیں وہ مظفر آباد، باغ راولا کوٹ، مانسہرہ اور دوسرے متعدد مقامات پر کھُلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ بہت سے متاثرین کو شکایت ہے کہ اب تک حکومت نے امداد فراہم نہیں کی۔ خود سرکاری اہلکار بھی دعوی کر رہے ہیں۔ کہ پیر کی شام تک ہر جگہ امدادی ٹیمیں پہنچ جائیں گی۔ لیکن تباہی وسیع علاقے تک پھیلی ہوئی ہے۔ حکومت پاکستان کے وسائل اس سے نمٹنے کے لیے نا کافی نظر آتے ہیں۔ اس لیے صدر جنرل پرویز مشرف نے بین الاقوامی برادری سے امداد کی اپیل کی ہے۔ کئی ملکوں سے امداد آنا شروع ہو گئی ہے تاہم متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کے لیے حکومت نے فیڈرل ریلیف کمیشن قائم کیا ہے اور سرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ آج شام تک امدادی ٹیمیں ہر جگہ تک پہنچ جائیں گی۔ پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریوں کا ابھی تک پُوری طرح اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کابینہ کے خصوصی اجلاس کو بتایا کہ بیس ہزار سات سو پینتالیس لوگ ہلاک ہو چکُے ہیں لیکن یہ ابھی تک صرف اندازہ ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پچیس ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ یہ خدشہ بھی ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اور اس کا اندازہ بہت وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی شدید متاثر آبادیوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ بنیادی مقصد ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں اور اس سانحہ میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو نکالنا ہے۔ ساتھ ہی زخمیوں اور متاثرین کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بھی احکامات جاری کئے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں زلزلے سے تباہ ہونے والی عمارت مارگلہ ٹاور سے آج تین لوگوں کو زندہ نکال لیا گیا ہے اور شام گئے تک ایک خاتون کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ریپڈ ریسکو کے ٹیم لیڈر جان ہالینڈ کے مطابق خاتون بہت اندر دھنسی ہوئیں ہیں۔ انہوں نے بتایا ہم نے تین لوگوں کو زندہ بچا لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ملبے کو کاٹ کر اندر تک پہنچ سکیں۔ کیونکہ خاتون کافی نیچے دبی ہوئی ہیں۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ کئی لوگ ابھی زندہ ہونگے ہم زندھ لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ‘ اور شام گئے مارگلہ ٹاور کے ملبے کو ہٹانے کے لیے بھاری میشنری استعمال کی جا رہی ہے۔ امدادی کارکن آس لگائے ہوئے ہیں کہ جو زندہ دبے ہوئے ہیں انہیں نکالا جا سکے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||