فیکٹری میں دھماکے سے 6 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے نواحی علاقے فیروز والہ میں آتش بازی کی ایک گھریلو فیکٹری میں ہونے والے دھماکے میں تین بچوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے۔ فیروزوالہ کے ایک پولیس اہلکار محمد عباس نے بتایا کہ یہ دھماکہ سنیچر کی شام گاؤں نئی بھینی میں ایک حویلی نما گھر میں ہوا جس کا ایک حصہ متوفی جعفر نے کرائے پر لے رکھا تھا اور وہاں پر ماچس پٹاخے بنانے کاکام کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق کام کے دوران آتش گیر مواد ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس سے اسی حویلی کے دوسرے حصہ میں رہنے والی رانی بی بی اور اس کے دو کم سن بچے ڈھائی سالہ عمران اور ڈیڑھ سالہ درخشاں ان کے ہمسائے گیارہ سالہ اعظم اور چودہ سالہ بشری اور خود جعفر ہلاک ہوگئے۔ تین زخمیوں کو لاہور کے میو ہپستال میں داخل کرادیاگیا ہے ان کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ پولیس کے مطابق گھریلو علاقے میں آتش بازی کا سامان تیار کرنا غیر قانونی ہے۔ پولیس نے حویلی کے مالک کے خلاف ایکسپلوژو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیاہے ۔ پاکستان میں آتش بازی کا سامان غیرقانونی طور پر گھریلو علاقوں میں تیار کیا جاتا ہے اور مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے اس نوع کے سنگین اور جان لیوا حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||